Showing posts with label سائنس، Science. Show all posts
Showing posts with label سائنس، Science. Show all posts

Friday, July 14, 2023

قسط 1: سائنس کی اہم شاخوں کا تعارف


_*سائنس آسان*_

_*(قسط 1: سائنس کی اہم شاخوں کا تعارف)*_

_*TEACHER'S GROUP NEWS AND JOBS*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علمی ذوق رکھنے والے بہت سے احباب سائنس کی مبادیات جاننا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں مجھے بہت سے پیغامات موصول ہوتے رہے ہیں جن میں اکثر دوست کسی ایسی کتاب کے متلاشی ہوتے ہیں، جس میں سائنس کی مستند بنیادی معلومات اردو میں مل سکیں۔ مگر بدقسمتی سے، باوجود تلاش بسیار کے ایسی کوئی کتاب دستیاب نہیں ہو سکی۔

چنانچہ محترم جناب اسامہ مجاہد کی ترغیب پر، میں ان مضامین کا سلسلہ شروع کر رہا ہوں۔ امید ہے اسے میرے تمام معزز قارئین، خصوصاً وہ احباب جن کا تعلیمی پس منظر کامرس یا فنون ہے، مفید پائیں گے اور انہیں سائنس کو بہتر سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ سائنس کے طلباء و طالبات بھی جو اپنے بنیادی تصورات کا اعادہ چاہتے ہیں، اس سے مستفید ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹سائنس کیا ہے؟🔹

"ایسا علم جو تجربات اور مشاہدات سے حاصل ہو، سائنس کہلاتا ہے۔"

سائنس کا لفظ، لاطینی زبان کے لفظ scientia سے ماخوذ ہے۔ اس کے معنی علم یا نالج کے ہیں۔

لفظ سائنس پہلی بار کب استعمال ہوا؟ اس بارے میں بہت زیادہ یقینی معلومات تو نہیں مگر تاریخ میں سب سے پہلے ایک فلاسفر ولیم وہیویل William Whewell نے سن 1833 میں نیچرل فلاسفرز کے لئے سائنٹسٹ کی اصطلاح استعمال کی۔ اس کے بعد جلد ہی یہ لفظ زبان زدِ عام و خاص ہو گیا اور طبعی فطرت کے علم کے لئے سائنس کا لفظ استعمال ہونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹سائنس کی شاخیں🔹

سائنس ایک وسیع علم ہے۔ اس کے ہزاروں ذیلی شعبے ہیں۔ سائنسدانوں نے اسے چند بنیادی شاخوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ شاخیں درج ذیل ہیں۔

1۔ حیاتیات Biology

سائنس کی اس شاخ میں جانداروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ 
اس کی مزید ذیلی شاخیں ہیں۔

پودوں کا مطالعہ اس کی ذیلی شاخ باٹنی Botany میں کیا جاتا ہے۔

جانوروں کے مطالعہ کے لئے زولوجی Zoology ۔

خوردبینی جانداروں کی شاخ کا نام مائکرو بیالوجی microbiology ہے۔

ان کے علاوہ جینیٹکس، ایکالوجی، ٹیکسانومی، فزیالوجی اور بہت سی دیگر شاخیں ہیں۔

2۔ کیمیا یا کیمسٹری Chemistry

مادے کا علم کیمسٹری کہلاتا ہے۔ اس میں مادے کی بناوٹ، خواص، ترکیب اور تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

مادہ کیا ہے؟ ہر وہ شے جو کمیت اور حجم رکھتی ہو مادہ کہلاتی ہے۔ 

ٹھوس، مائع اور گیس، مادے کی تین بنیادی حالتیں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی مادے کی کچھ حالتیں ہیں مگر وہ عام نہیں ہیں۔

3۔ طبیعیات یا فزکس Physics

مادہ، توانائی، خلاء اور وقت کے تمام مظاہر اور باہمی تعلقات کا علم، فزکس کہلاتا ہے۔ 

یوں سمجھئے کہ یہ پوری کائنات اور اس کے تمام طبعی قوانین کا علم ہے۔ 

فزکس کے بنیادی موضوعات یہ ہیں۔

حرکت، حرارت، روشنی، برقی کرنٹ، مقناطیسیت، شعاعیں، ویوز، برقی چارج، نیوکلئیر ری ایکشنز، ریڈیو ایکٹیویٹی، فورسز، آپٹکس وغیرہ۔ ان کے مطالعہ کے لئے فزکس کو کئی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

4۔ ریاضی Mathematics

اعداد، پیمائشیں، تخمینہ جات، مقداری تجزیہ، مساوات، فارمولوں اور ہندسی اشکال کا علم ریاضی کہلاتا ہے۔

اس کی اہم شاخیں ایرتھمیٹکس، الجبرا، کیلکولس، ٹرگنومیٹری اور جیومیٹری وغیرہ ہیں۔

5۔ شماریات Statistics

ڈیٹا data سے متعلق سائنس شماریات کہلاتی ہے۔ اس میں ڈیٹا کلیکشن، اس کی ترتیب سازی اور تجزیہ کر کے نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔

6۔ ارضیات Geology

زمین سے متعلق علم جیولوجی کہلاتا ہے۔ اس میں زمین کی ساخت، تغیرات، کیمیائی خواص اور منرلز، مٹی، چٹانوں اور اندرونی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

سائنس کی اور بھی شاخیں ہیں، مگر مندرجہ بالا زیادہ اہم ہیں۔ خصوصاً ان میں بیالوجی، کیمسٹری اور فزکس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

قسط ۳: مادی کائنات

_*سائنس*_

_*(قسط ۳: مادی کائنات)*_

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برف کا ایک ٹکڑا لے کر خالی پلیٹ میں رکھ دیں۔ یہ تھوڑی دیر تک اپنی شکل برقرار رکھے گا مگر پھر آہستہ آہستہ پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ کچھ ہی ساعتوں کے بعد یہ پانی میں تبدیل ہو جائے گا اور بہہ کر پلیٹ جیسی شکل اختیار کر لے گا۔ اس پلیٹ کو ابھی اور پڑا رہنے دیں۔ چند گھنٹے یا ایک دن کے اندر یہ پانی غائب ہو جائے گا اور خشک پلیٹ ہی رہ جائے گی۔ یہ پانی کہاں چلا گیا؟ ظاہر ہے بخارات بن کر ہوا میں اڑ گیا۔

اس مثال میں پانی کی تین حالتیں (states) ہمارے سامنے آئیں۔ 

⁦▪️⁩برف یعنی ٹھوس، 
⁦▪️⁩پانی یعنی مائع اور 
⁦▪️⁩بخارات یعنی گیس۔ 

پانی مادہ (matter) ہے اور ٹھوس، مائع اور گیس اس کی تین حالتیں۔

تعریف کے مطابق، ہر وہ شے جو جگہ گھیرتی ہے اور کمیت رکھتی ہے، مادہ کہلاتی ہے۔

کیمسٹری، سائنس کی وہ شاخ ہے جس میں مادے کا علم حاصل کیا جاتا ہے۔

ہماری کائنات میں چار بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔

1۔ مادہ Matter
2۔ توانائی Energy
3۔ وقت Time
4۔ خلاء Space

زیرِ نظر آرٹیکل میں ہم مادے کے بارے میں بنیادی علم حاصل کریں گے اور اگلی اقساط توانائی، وقت اور خلاء کے بارے میں ہوں گی۔

🔹مادے کی حالتیں🔹

اگرچہ عام زندگی میں ہم مادے کی تین حالتوں یعنی ٹھوس، مائع اور گیس سے ہی واقف ہیں مگر کائنات میں مادے کی کم ازکم سات یا زائد حالتیں ہیں، تاہم اس مضمون میں درج ذیل پانچ حالتوں کو زیرِ بحث لایا جائے گا۔

1۔ ٹھوس Solid
2۔ مائع Liquid
3۔ گیس Gas
4۔ پلازمہ Plasma
5۔ بوس-آئین اسٹائن کنڈنسیٹ
Bose- Einstein Condensate

1۔ ٹھوس

🔹لکڑی، شیشہ، پتھر، لوہا وغیرہ ٹھوس مادہ کی مثالیں ہیں۔

🔹یہ مادے کی ایسی حالت ہے جو اپنی شکل اور حجم برقرار رکھتی ہے۔

🔹اس کے ایٹمز، آئینز یا مالیکیولز بہت قریب قریب ہوتے ہیں اور صرف ارتعاشی حرکات ہی انجام دے سکتے ہیں۔

🔹ٹھوس کی دو بنیادی اقسام ہیں، کرسٹلائن سولڈ (crystalline solid) اور ایمارفس سولڈ (Amorphous Solid)۔

🔹کرسٹلائن سولڈ کے ایٹمز، آئینز یا مالیکیول مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ٹھوس نمک، پھٹکڑی اور دھاتیں ہیں۔

🔹ایمارفس سولڈ کے ایٹمز، آئینز یا مالیکیولز بے ترتیب حالت میں ہوتے ہیں، مثلاً پلاسٹک، کوئلہ، کنکریٹ وغیرہ۔

2۔ مائع حالت

🔹مادہ اپنی مائع حالت میں بہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پانی، اسپرٹ، مٹی کا تیل، پیٹرول، گلیسرین وغیرہ اس کی عام مثالیں ہیں۔

🔹مائع اپنا حجم برقرار رکھتا ہے مگر اس کی شکل تغیر پذیر ہوتی ہے اور اسے جس برتن میں رکھو، یہ اسی برتن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

🔹اس کے مالیکیولز اگرچہ بہت قریب ہوتے ہیں مگر یہ ارتعاشی حرکت کی بجائے بے ترتیب خطی حرکت کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر پھسلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

🔹وولیٹائل (volatile) مائعات، بآسانی بخارات میں تبدیل ہو جاتے ہیں جبکہ نان وولیٹائل، بخارات میں تبدیل نہیں ہوتے۔

🔹مالیکیولوں کے درمیان کشش کی قوتیں پائی جاتی ہیں، اگرچہ یہ قوتیں ٹھوس سے کم ہوتی ہیں۔

3۔ گیس حالت

🔹آکسیجن، نائٹروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، کلورین وغیرہ عام گیسیں ہیں۔ ہوا بھی مختلف گیسوں کا آمیزہ ہے۔

🔹گیسوں کا حجم اور شکل مقررہ نہیں ہوتے، بلکہ انہیں جس برتن میں رکھو اسی برتن کا حجم اور شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

🔹گیس کے مالیکیول بہت دور دور پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان کشش کی قوتیں صفر کے قریب ہوتی ہیں۔

🔹گیسی مالیکیولز ہر وقت خطِ مستقیم میں لگاتار حرکت کرتے ہیں اور ان حرکات کے دوران آپس میں یا برتن کی دیواروں سے ٹکراتے رہتے ہیں۔

🔹گیس مالیکیولوں کے ٹکراؤ کے دوران توانائی یا مومینٹم کا زیاں نہیں ہوتا، جس سے ان کی حرکت کبھی نہیں رکتی۔

🔹تمام گیسیں دباؤ ڈالتی بھی ہیں اور بیرونی دباؤ کے نتیجے میں اپنا حجم کم بھی کرتی ہیں۔

4۔ پلازمہ

🔹پلازمہ، زمین پر مشکل سے ہی ملتا ہے مگر یہ کائنات میں مادے کی سب سے زیادہ عام حالت ہے۔ 
یہ انتہائی باردار (charged) ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔

🔹ان ذرات کی حرکی توانائی بہت شدید ہوتی ہے۔

🔹زمین پر عموماً نوبل گیسوں مثلاً ہیلئیم، نیئون، کرپٹان وغیرہ کو برقی کرنٹ کی مدد سے پلازمہ میں تبدیل کر کے جگمگ کرتے اشتہاری بورڈز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

🔹بیشتر ستارے پلازمہ کے سپر ہیٹڈ (superheated)  کرے ہیں۔

5۔ بوس-آئن اسٹائن کنڈنسیٹ

1995 میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے سائنسدانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ مادے کی ایک نئی حالت تشکیل دے سکیں۔

لیزر شعاعوں اور مقناطیسیت کے استعمال سے دو سائنسدانوں، ایرک کورنیل اور کارل ویمین نے ایک دھات روبیڈئیم (rubidium) کو اس قدر ٹھنڈا کیا کہ  اس کا درجہ حرارت مطلق صفر تک پہنچا دیا گیا۔ یہ درجہ حرارت منفی 273 ڈگری سینٹی گریڈ کے مساوی ہے۔ اتنا کم درجہ حرارت انسانی تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس درجہ حرارت پر ایٹموں اور مالیکیولوں میں حرکت صفر ہو جاتی ہے اور کوئی مالیکیول اپنی حرکی توانائی دوسرے میں منتقل نہیں کر پاتا۔ جس کی بنا پر یہ تمام مالیکیول آپس میں چپکنے لگتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں تمام مالیکیولوں کی انفرادی حیثیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے بلکہ اس کی بجائے یہ سب ایٹم مل کر ایک ہی بڑے سے سپر ایٹم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ حالت بوس- آئن اسٹائن کنڈنسیٹ کہلاتی ہے۔ 

اس میں کئی حیرت انگیز خواص پیدا ہو جاتے ہیں، مثلاً

🔹اسے میکرواسکوپک لیول پر کوانٹم مکینکس کے مطالعہ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

🔹اس میں سے گزرنے کے دوران روشنی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اس سے پارٹیکل/ویو پیراڈوکس کا مطالعہ بآسانی ممکن ہو جاتا ہے۔

🔹یہ بنا رگڑ کے بہنے کی وجہ سے سپر فلوئیڈ (superfluid) کی خصوصیات کا حامل ہوجاتا ہے۔

🔹مادے کی اس حالت کو بلیک ہولز کے بہت سے مظاہر سمجھنے کے لئے بھی اہم خیال کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس: قسط 5: زمان و مکاں Space and Time

_*سائنس*_

_*(قسط 5: زمان و مکاں)*_

*SPACE AND TIME*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمان و مکاں (space and time)، ایک خوبصورت شاعرانہ سا تصور، کچھ کچھ فلسفہ لئے ہوئے۔۔۔۔۔
ہمارے بہت سے شعراء کرام نے اس پر خوب طبع آزمائی کی ہے۔ 

فلسفہ کا بھی یہ پسندیدہ موضوع رہا ہے اور ارسطو سے لے کر جدید دور تک، بے شمار فلاسفرز نے زمان و مکاں کو اپنے اپنے نقطۂ نظر سے سمجھا ہے۔

سائنس میں اس کے دو تصور رہے ہیں۔ ایک روایتی یا نیوٹن کا تصور اور دوسرا جدید یا آئین اسٹائن کا تصور۔

اسپیس کی روایتی تعریف کے مطابق، یہ ایسی سہ العبادی (Three dimensional) وسعت ہے جہاں اجسام و واقعات نسبتی مقام اور سمت رکھتے ہیں۔ 

یا جسے ہم اسکیل کی مدد سے ناپ سکیں، اسپیس کہلاتی ہے۔ 

واضح رہے کہ یہاں لفظ اسپیس، وسیع معنوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی میں وہ اسپیس یا خلاء بھی شامل ہے جو زمین سے بلندی پر واقع ہے۔ اور خود زمین بھی اسپیس میں گردش کر رہی ہے اور جہاں آپ بیٹھے ہیں یا چل پھر رہے ہیں، وہ جگہ بھی اسپیس ہے۔

طبعی اسپیس تین سیدھی ڈائمینشنز پر مشتمل ہوتی ہے، جو کہ لمبائی، چوڑائی اور اونچائی پر مشتمل ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے آپ ایک بس کا تصور کیجئے۔ بس کی ایک چوڑائی، ایک لمبائی اور ایک اونچائی ہوتی ہے۔ یہ اس کی تین ڈائمینشنز ہیں۔ ہر شے کی یہی تین ڈائمینشنز ہوتی ہیں، حتی کہ کاغذ جیسی باریک شے کی بھی لمبائی اور چوڑائی کے ساتھ کچھ نہ کچھ موٹائی بھی ہوتی ہے، چاہے یہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ تاہم اگر کسی شے کا سایہ دیوار پر پڑ رہا ہو تو اس سائے کی لمبائی اور چوڑائی تو ہو گی مگر موٹائی نہیں ہو گی۔ چنانچہ اشیاء کے سائے دو ڈائمینشنز رکھتے ہیں۔ اسی طرح تمام تصاویر بھی دو ڈائمینشنل ہوتی ہیں۔ آپ نے تھری ڈی فلم دیکھی ہو گی، اس میں تیسری ڈائمینشن ایک بصری دھوکہ illiusion ہے جو مصنوعی طور پر تخلیق کیا جاتا ہے۔ ان فلموں سے لطف اندوز ہونے کے لئے مخصوص چشمہ درکار ہوتا ہے۔

اسپیس کی ان تینوں ڈائمینشنز کو بالترتیب ایکس، وائی اور زیڈ ایکسز (x,y,z axis) کہا جاتا ہے۔ ہر ایکسز، دوسرے ایکسز کے ساتھ نوے درجے کا زاویہ بناتے ہوئے، عموداً واقع ہوتا ہے۔

یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ ہماری کائنات کسی پہلے سے موجود اسپیس میں نہیں پیدا ہوئی، بلکہ جب تیرہ اعشاریہ سات ارب سال پہلے یہ وجود میں آئی تو اس وقت نہ اسپیس تھی اور نہ ٹائم۔ کائنات کے وجود کے ساتھ ہی اسپیس اور ٹائم دونوں پیدا ہوئے۔ اور اب بھی کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسپیس بھی وسیع ہوتی جا رہی ہے۔

وقت کیا ہے؟ اس کی سادہ سی تعریف تو یہ ہو سکتی ہے کہ ایسا وقفہ یا نقطہ جس میں کوئی واقعہ، ایکشن یا پروسیس رونما ہوتا ہے ٹائم کہلاتا ہے۔ یعنی اگر وقت نہ ہو تو کوئی واقعہ ہو ہی نہیں سکتا یا اگر کوئی نظام تبدیلی کے عمل سے نہیں گزر رہا تو پھر وہ ٹائم لیس ہے۔ 

وقت کی پیمائش سیکنڈ، منٹ اور گھنٹہ میں کی جاتی ہے۔ مگر وقت کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ مشہور سائنسدان، اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب، وقت کی مختصر تاریخ، میں وقت کے کائناتی اور طبیعیاتی تصور کو موضوع بنایا ہے۔ 

کلاسیکل فزکس میں وقت کو ایک آزاد قدر قرار دیا جاتا رہا ہے، جس کی پیمائش پوری کائنات میں ہر مقام پر یکساں ہوتی ہے۔ مگر ماڈرن فزکس میں وقت کے تصورات میں انقلابی تبدیلیاں آئیں اور تمام روایتی تصورات کے محل زمین بوس ہو کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹زمان و مکاں کے جدید تصورات🔹

انیسویں صدی کے اختتام پر، سن 1900 میں سائنسدانوں کے ذہن میں یہ خیال راسخ ہو گیا تھا کہ فزکس کے تمام بنیادی نظریات دریافت کر لئے گئے ہیں اور اب ایسا کچھ باقی نہیں رہا جو بنیادی ہو اور دریافت نہ ہو چکا ہو۔ لیکن وہ کیا جانتے تھے کہ ابھی تو صحیح معنوں میں دریافتوں کے سفر کا آغاز بھی نہیں ہوا۔ 

اسی سال مائکلسن-مورلے کے تجربات نے کلاسیکل فزکس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور پھر میکس پلانک کی کوانٹم تھیوری نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یہ کوانٹم مکینکس کا نقطۂ آغاز تھا، اس کے بعد فزکس ایک جہانِ حیرت کی دریافت کے سفر پر نکل کھڑی ہوئی۔ دریافت کے اس سفر کے اولین مسافروں میں بہت بڑا نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئین اسٹائین۔

آئین اسٹائن (جسے آئین شٹائن کہنا زیادہ درست ہے) نے سن 1905 میں اپنا مشہورِ زمانہ "اضافیت کا نظریۂ خاص" (Special Theory of Relativity) پیش کیا۔ اور پھر دس سال بعد 1915 میں محنتِ شاقہ کے نتیجے میں اپنا دوسرا نظریہ، جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی پیش کیا۔ ان دونوں نظریات نے کائنات کے وجود اور زمان و مکان کے تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔

اسپیشل تھیوری آف ریلیٹیویٹی دو نکات پر مشتمل ہے۔

1۔ انرشیا (Inertia) یا غیر اسراعی نظام میں کائناتی قوانین یکساں رہتے ہیں۔

2۔ ویکیوم میں روشنی کی رفتار، تمام مشاہدہ کنندگان کے لئے یکساں ہوتی ہے، چاہے روشنی کا منبع متحرک ہو یا ساکن۔

آئین اسٹائن نہیں جانتا تھا کہ کوئی قابلِ احترام شخصیت ان قوانین سے نہ صرف متاثر ہے بلکہ گہرائی سے ان پر غوروفکر کر رہی ہے۔ یہ شخصیت اسکے طالبعلمی کے زمانے کے پروفیسر ہرمین منکوسکی (Hermann Minkowski) تھے۔

پروفیسر صاحب نے تین سال غوروفکر کرنے کے بعد سن 1908 میں ان کے منطقی نتائج مرتب کرتے ہوئے، ایک دھماکہ خیز انکشاف کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وقت، اسپیس سے آزاد نہیں بلکہ اس کا لازمی جزو ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح اسپیس کی تین ڈائمینشنز، ایکس، وائی اور زیڈ ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے عموداً واقع ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح ٹائم ان کی چوتھی ڈائمینشن ہے اور یہ بقیہ تینوں ڈائمینشنز پر عموداً واقع ہے۔ 

اس نظرئیے نے وقت کی آزاد حیثیت ختم کر کے اسے اسپیس کا حصہ بنا دیا۔ یوں زمان و مکاں یعنی ٹائم اینڈ اسپیس کی اصطلاح تبدیل ہوکر "اسپیس ٹائم" بن گئی۔ چنانچہ نہ مقام وقت سے الگ رہا، نہ وقت مقام سے الگ رہ گیا بلکہ یہ باہم مل کر ایک فیبرک کی طرح تانے بانے میں مدغم ہو گئے۔

آئین اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی اسی حقیقت کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ اس تھیوری میں اس نے گریویٹی کی تشریح اسپیس ٹائم کے نظرئیے کی بنیاد پر کی ہے۔

یہ نظریہ ریاضیاتی ثبوتوں سے تو مزین تھا، مگر تجرباتی شہادت سے محروم تھا۔ 

پھر 1919 میں سر آرتھر ایڈنگٹن نے اس کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کر دیا۔ اس سال مکمل سورج گرہن ہوا تھا اور دن میں تارے (محاورتاً نہیں حقیقتاً) نظر آگئے تھے۔ وہ پہلے سے اس دن کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ تاروں کی پوزیشن متوقع مقام سے مختلف ہے۔ یہ انحراف سورج کی گریویٹی کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ رات کو جب ستارے نظر آتے ہیں، اس وقت سورج نہیں ہوتا۔ مگر اب دن میں سورج اپنے مقام پر تھا، تاہم گرہن کی وجہ سے چاند کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا۔ اور اس کی گریویٹی نے اسپیس ٹائم کو خمیدہ کر کے تاروں کے نظر آنے کا مقام بدل دیا تھا۔ 

اس تجربے نے راتوں رات آئین اسٹائن کی سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کر کے اسے شہرتِ دوام بخش دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جاری ہے

سائنس : قسط 8: بائیولوجی کی دنیا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بائیولوجی کی دنیا کیا ہے؟ ایک جہانِ حیرت کدہ و طلسمِ ہوشربا ہے۔
سائنس کی اس شاخ کا بھرم صرف ہمارے کرۂ ارض نے رکھا ہوا ہے۔ سیارۂ زمین نہ ہو تو بائیولوجی کا کوئی وجود نہیں (کم از کم انسانی علم کی حد تک ایسا ہی ہے)

بائیولوجی میں زندگی اور تمام جانداروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ 

اس کی تین بڑی شاخیں درج ذیل ہیں۔

1۔ زولوجی (Zoology):
اس شاخ میں حیوانات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

2۔ بوٹنی (Botany)
بائیولوجی کی یہ شاخ نباتات سے متعلق ہے۔

3۔ مائکرو بائیولوجی (Microbiology)
اس شاخ میں خوردبینی جانداروں مثلاً بیکٹیریا وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانداروں کی اکائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام جانداروں کا جسم بہت چھوٹی چھوٹی ساختی و فعلی اکائیوں سے تشکیل پاتا ہے، یہ اکائی خلیہ یا سیل cell کہلاتی ہے۔ 

سیل کی دریافت تو اپنی جگہ ایک منفرد واقعہ ہے ہی، مگر اس سے بھی زیادہ اہم اور شاندار واقعہ خورد بین (microscope) کی ایجاد ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائکروسکوپ کی ایجاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⁦▪️⁩پہلی صدی عیسوی میں جو شے ایجاد ہو چکی تھی وہ شیشہ تھا۔ یہ اپنی شفافیت کی بنا پر بڑی نفیس شے جانا جاتا تھا۔ رومن اسے کثرت سے استعمال کرتے تھے۔ 

⁦▪️⁩تیرہویں صدی عیسوی میں اس شیشے سے بنے عدسے سے عینک کا کام لیا جانے لگا۔ عینک میں استعمال ہونے والا محدب عدسہ ایک سادہ سی مائکروسکوپ ہی ہے۔ 

⁦▪️⁩اس مائکروسکوپ میں انقلابی تبدیلی اس وقت آئی جب دو عدسوں کو ایک نلکی میں جوڑ کر سن 1590 میں مرکب خوردبین ایجاد کر لی گئی۔ اس ایجاد کا سہرا ہالینڈ کے چشمہ ساز زاکاریا جانسن اور اسکے والد ہینز کے سر ہے۔ 

⁦▪️⁩سن 1609 میں گیلیلیو نے اس کے ڈیزائن میں بہتری پیدا کی۔ اس کے ساتھ اس نے دوربین بھی ایجاد کی اور کائنات کی گتھیاں سلجھانے کے سفر پہ چل نکلا۔

⁦▪️⁩سن 1663 میں معروف برطانوی سائنسدان رابرٹ ہک نے مائکروسکوپ کی مدد سے پہلی بار سیل دریافت کیا۔ اس کے لئے اس نے کارک کی باریک قاشوں کا بغور معائنہ کیا۔ اس میں اسے خانے خانے سے بنے نظر آئے۔ چونکہ خانے کو لاطینی زبان میں cellula کہا جاتا ہے، اس لئے اس نے انہیں سیلز کا نام دیا۔ یوں پہلی بار بائیولوجی سیل کے جہانِ حیرت میں داخل ہوئی۔

⁦▪️⁩دس سال بعد سن 1673 میں ہالینڈ کے بزنس مین، لیوون ہوئک Leeuvenhoek نے اپنی دلچسپی کی بنا پر لینز کی بناوٹ کو بہت بہتر تراشا اور پالش کیا۔ اس سے بنائی گئی مائکروسکوپ اتنی طاقتور تھی کہ اشیاء کو دوسو گنا سے بھی زیادہ بڑا کر کے دکھا سکتی تھی۔ 

اس مائکروسکوپ کی مدد سے اس نے جو کچھ دیکھا، وہ دنیا نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے خون میں سرخ سیلز دیکھے، پانی کے قطرے میں متحرک جاندار دیکھے، یک خلوی پروٹوذوا کو دیکھا، فنجائی دریافت کئے اور ان سب سے بڑھ کر پہلی بار بیکٹیریا دریافت کئے۔

⁦▪️⁩سن 1673 میں لیوون ہوئک نے رائل سوسائٹی لندن کو خط لکھ کر اپنی دریافتوں سے آگاہ کیا۔ اگلے پچاس برس تک اس کی سوسائٹی سے خط و کتابت رہی۔ سن 1723 میں اس کا انتقال ہو گیا۔

⁦▪️⁩اپنی ایجاد سے دو صدیاں بعد تک بھی مائکرو سکوپ اس قابل نہیں تھی کہ سیلز کے اندر کی تفصیلات دیکھ سکے۔ سن 1833 تک یہ قدرے بہتر ہو چکی تھی، اسی سال معروف سائنسدان رابرٹ براؤن نے سیل میں نیوکلئس دریافت کیا۔ 

اب سائنسدانوں کی ساری توجہ کا مرکز و محور سیل تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیل تھیوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سن 1838 میں دو جرمن پروفیسرز شلیڈن اور شوان نے سیل تھیوری پیش کی۔ یہ تھیوری دو نکات پر مشتمل تھی۔

1۔ دنیا کے تمام جاندار سیلز سے بنے ہیں۔

2۔ سیل کسی بھی جاندار کی ساختی اور فعلی اکائی ہے۔

سن 1855 میں جرمن سائنسدان روڈلف ورچو نے اس میں تیسرے نکتے کا اضافہ کیا۔

3۔ تمام سیلز پہلے سے موجود سیلز سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔

(اہم نوٹ: پہلا سیل کیسے پیدا ہوا؟ یہ معاملہ ارتقاء کا ہے۔ اس سوال کا جواب نظریۂ ارتقاء کے پاس ہے)

جدید بائیولوجی میں سیل تھیوری میں تین مزید نکات شامل ہو چکے ہیں۔

4۔ سیلز میں وراثتی اطلاعات ہوتی ہیں جو اس کی تقسیم کے ذریعے اگلی نسل کے سیلز میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

5۔ کیمیائی ترکیب کے لحاظ سے بنیادی طور پہ تمام سیلز ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں۔

6۔ زندگی کی توانائی کا بہاؤ ، میٹابولزم کی صورت میں سیلز کے اندر وقوع پذیر ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے