Showing posts with label سائنس. Show all posts
Showing posts with label سائنس. Show all posts

Friday, July 14, 2023

قسط ۲: سائنٹیفک میتھڈز

_*سائنس آسان*_

_*(قسط ۲: سائنٹیفک میتھڈز)*_

چار سو سال پہلے کا واقعہ ہے، ایک روز اٹلی کے مشہور پِیسا ٹاور کے پاس سے اس دور کے نامور سائنسدان گیلیلی گیلیلیو کا اپنے شاگردوں کے ہمراہ گزر ہوا۔ اس نے دو پتھر تلاش کئے، ایک ہلکا اور دوسرا بھاری۔ پھر اپنے شاگردوں سے پوچھنے لگا کہ اگر ہم ان دونوں پتھروں کو پیسا ٹاور سے ایک ساتھ گرائیں تو کونسا پتھر پہلے زمین پر گرے گا؟

شاگردوں نے ایک لمحہ توقف کئے بغیر جواب دیا کہ ظاہر ہے بھاری پتھر پہلے گرے گا۔ 

گلیلیو نے کہا، کیا بہتر نہیں کہ ہم "تجربہ" کر کے دیکھ لیں؟ 

شاگرد زیرِ لب مسکرائے، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ یہی پڑھا تھا اور سینکڑوں سال سے یہ تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ ہمیشہ بھاری پتھر زیادہ رفتار سے نیچے گرتا ہے۔

بالآخر تجربہ کیا گیا اور بار بار کیا گیا۔ اور ہر بار تمام شاگرد حیران ہوئے کہ دونوں پتھر ایک ساتھ زمین پر گر رہے تھے۔ (بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نیوٹن کے سر پر سیب گرنے کی طرح یہ کہانی بھی فرضی ہے، ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو مگر نہ تو اجسام کا زمین پر ایک ساتھ گرنا فرضی ہے اور نہ یہ بات کہ اس حقیقت کو سب سے پہلے گیلیلیو نے دریافت کیا۔ 
یقین نہ آئے تو اپنے گھر کی چھت پر جا کر دو پتھر گرا کر دیکھ لیں)

اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا تجرباتی ثبوت ہے مگر یہ بہت بڑی حقیقت کو آشکار کر رہا ہے، کہ سائنسی تحقیق کس طرح کی جاتی ہے۔ اور کس طرح سائنسی مسلمات، حقائق اور نظریات دریافت ہوا کرتے ہیں۔

مستند سائنسی طریقۂ تحقیق کو سائنٹیفک میتھڈ کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ناقابلِ تردید حقائق اور نظریات دریافت ہوتے ہیں۔

سائنٹیفک میتھڈ کے مراحل

ہر سائنسی تحقیق کے "سائنٹیفک میتھڈ" کے مراحل معمولی ردو بدل کے ساتھ کم و بیش ایک ہی جیسے ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں۔

1۔ موضوع کا انتخاب:

سائنٹیفک میتھڈ کا پہلا مرحلہ یقیناً موضوع کا انتخاب ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں سوال اٹھایا جاتا ہے، مثلاً پولیو چھوٹے بچوں کو ہی کیوں ہوتا ہے؟ سورج کی حرارت زمین تک کیسے پہنچتی ہے؟ لوہے کو زنگ کیوں لگتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ

2۔ مشاہدہ Observation

یہ بہت طاقتور اسٹیپ ہے۔ اس مرحلے میں متعلقہ موضوع کے بارے میں تمام ممکنہ مشاہدات اکٹھے کر کے ہر طرح کی ریسرچ کی جاتی ہے اور تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی میدان کے خاص حصے میں گھاس زیادہ لمبی اور سر سبز ہے تو اس زمینی ٹکڑے کا مشاہدہ کیا جائے گا اور دوسرے حصوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے گا۔

3۔ مفروضہ یا ہائپوتھیسس (Hypothesis)

ہائپوتھیسس کے اردو متبادل کے لئے لفظ "مفروضہ" استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لفظ مفروضہ سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ 

یاد رکھئے، ہائپو تھیسس کوئی ایسا مفروضہ نہیں ہوتا جو کوئی بھی انسان بنا سوچے سمجھے قائم کر لے۔ بلکہ سائنسی مفروضہ کی ٹھوس بنیاد مشاہدات پر رکھی جاتی ہے اور یہ ذہانت آمیز اندازہ Intelligent guess ہوتا ہے۔

لھٰذا، ایسا بیانیہ جو مشاہدات اور ریسرچ کی بنیاد پر مکمل تفکر، تعقل اور منطق Logic کی بنیاد پر قائم کیا جائے، مفروضہ کہلاتا ہے۔ یہ مشاہدے کی عقلی توضیح کرتا ہے۔

مفروضہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کو تجرباتی تصدیق کے مراحل سے ابھی نہیں گزارا گیا ہوتا، مگر یہ حقائق کے تمام امکانات کا احاطہ کرتا ہے۔

4۔ تجربات Experiments

مفروضہ کی تصدیق یا تردید کے لئے تجربات کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ سائنس میں تجربات کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ 

عموماً تجربات میں دو قسم کے تغیر پذیر عوامل یا ویری ایبلز variables استعمال کئے جاتے ہیں۔ 

پہلی قسم انڈیپینڈنٹ ویری ایبلز کی اور دوسری ڈیپینڈنٹ ویری ایبلز کی ہوتی ہے۔ 

انڈیپینڈنٹ میں تبدیلیاں لا کر ان کے اثرات ڈیپینڈنٹ ویری ایبلز پر دیکھے جاتے ہیں اور مشاہدات کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

5۔ ڈیٹا اور اسکا تجزیہ

تجربہ کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا کا پوری احتیاط سے ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور پھر اس ڈیٹا کو تجزیے کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے لئے کئی قسم کے ٹیبلز اور گراف استعمال کئے جاتے ہیں۔ 

تجزیہ کے بعد نتائج مرتب کئے جاتے ہیں جنہیں انستنباط یا conclusion کہا جاتا ہے۔ انہی نتائج سے فیصلہ ہوتا ہے کہ مفروضہ رد کیا جائے گا یا اسے تھیوری کا درجہ حاصل ہو گا۔

6۔ نظریہ یا تھیوری Theory

اگر ہائپوتھیسس کی تصدیق تجربے سے ہو جائے تو یہ ہائپوتھیسس، نظریہ کادرجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس درجے تک پہنچنے کے لئے ایک تجربہ کافی نہیں ہوتا بلکہ کئی سائنسدان کئی بار تجربات کرتے ہیں۔

گویا تھیوری یا نظریہ ایک ایسا بیانیہ ہے جسے تجرباتی تصدیق حاصل ہو۔

تھیوری کے لئے کئی دیگر اصطلاحات بھی استعمال کی جاتی ہیں اور یہ سب تھیوری کی ہی مترادفات ہیں۔ مثلاً 
⁦▪️⁩فیکٹ (fact)، 
⁦▪️⁩سائنٹیفک لاء، 
⁦▪️⁩رول (rule) وغیرہ۔

سائنس کا فہم نہ رکھنے والے لوگ عموماً تھیوری یا نظریہ کو محض انسانی رائے سمجھ بیٹھتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ یاد رکھئے تھیوری، تصدیق شدہ فیکٹ ہوتی ہے اور ہر طرح کے تصدیقی و تجرباتی مراحل سے گزر کر مسلمہ حقیقت کا درجہ حاصل کر چکی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قسط 4: توانائی سے بھرپور کائنات

_*سائنس آسان*_

_*(قسط 4: توانائی سے بھرپور کائنات)*_

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⁦▪️⁩توانائی کا مطالعہ سائنس کی شاخ، فزکس میں کیا جاتا ہے۔

⁦▪️⁩کائنات میں مادہ اور توانائی، غالباََ دو سب سے اہم عوامل ہیں۔ باقی دو عوامل وقت اور خلاء ہیں۔ 

⁦▪️⁩توانائی یا energy ہوتی کیا ہے؟ بہت سادہ۔۔۔۔ کام کرنے کی صلاحیت کو توانائی کہا جاتا ہے۔

⁦▪️⁩توانائی کے مفہوم سے ملتے جلتے کچھ الفاظ بہت کنفیوز کر سکتے ہیں۔ مثلاً؛

1۔ کام یا work
2۔ قوت یا Force
3۔ طاقت یا Power

یہ الفاظ اکثر ہماری روز مرہ گفتگو میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور تقریباً ایک دوسرے کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔ مگر سائنس میں یہ باقاعدہ اصطلاحات کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی تعریفیں اور مفہوم الگ الگ ہیں۔ 

آئیے ان کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا مفہوم یاد رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگلی اقساط میں ان کا ذکر ہوتا رہے گا۔

1۔ کام: 

کسی جسم پر عمل کرنے والی قوت اور اس کے طے کردہ فاصلے کو باہم ضرب دی جائے تو حاصلِ ضرب، کام کہلاتا ہے۔ 

اس کی پیمائش کے لئے جو یونٹ استعمال کی جاتی ہے، اسے جول (Joule) کہا جاتا ہے۔ یہی یونٹ توانائی کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ گویا کام اور توانائی باہم مترادف ہیں۔

2۔ قوت Force

قوت وہ عامل ہے جو ساکن یا متحرک جسم کی حالت بدل دے یا بدلنے کی کوشش کرے۔

اس کی مقدار، جسم کی کمیت کو اس کے ممکنہ اسراع (acceleration) سے ضرب دینے سے حاصل ہوتی ہے۔

اسراع کیا ہے؟ رفتار کی تبدیلی کی شرح کو اسراع کہا جاتا ہے۔ 

گاڑی میں ایکسیلیریٹر دبانے سے اسراع پیدا ہونے کا مشاہدہ عام ہے۔

قوت کی پیمائشی یونٹ، نیوٹن کہلاتی ہے۔

3۔ طاقت (Power)

اگر کوئی جوان مزدور سو اینٹیں آدھے گھنٹے میں پہلی منزل تک پہنچاتا ہے اور ایک عمر رسیدہ مزدور ایسا کرنے میں ایک گھنٹہ لگاتا ہے، تو بتا سکتے ہیں کس نے زیادہ توانائی لگائی؟ سوچئے۔۔۔۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نے مساوی توانائی لگائی ہے، کیونکہ مساوی کام کیا ہے۔ تو پھر ان میں فرق کیا ہے؟ ان میں کام کی رفتار کا فرق ہے، جسے طاقت کہا جاتا ہے۔ جوان مزدور کے کام کی رفتار زیادہ ہے اسلئے اس کی طاقت زیادہ ہے۔

طاقت کی پیمائشی یونٹ واٹ کہلاتی ہے۔ ایک واٹ مساوی ہوتی ہے ایک نیوٹن فی سیکنڈ کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب جبکہ آپ توانائی، کام، قوت اور طاقت کو سمجھ چکے ہیں تو اب ہم اپنا فوکس "توانائی" پر مرکوز کریں گے۔

🔹توانائی کی اقسام🔹

توانائی کی بہت سی اقسام ہیں۔ جن میں سے چند اہم ترین یہ ہیں۔

1۔ مکینیکل انرجی Mechanical Energy

یہ توانائی، کسی جسم کی حرکت یا مقام کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ کائنیٹک انرجی اور پوٹینشل انرجی کے مجموعے کے مساوی ہوتی ہے۔

2۔ کائنیٹک انرجی Kinetic Energy

یہ انتہائی اہم توانائی، پوری کائنات کے تمام متحرک اجسام میں پائی جاتی ہے۔ یعنی جہاں حرکت وہاں کائنیٹک انرجی

3۔ پوٹینشل انرجی Potential Energy

اگر کسی شے کو سطح زمین سے اوپر اٹھائیں تو اس پر ورک کرنا پڑے گا۔ یہ ورک اس میں پوٹینشل انرجی کی شکل میں ذخیرہ ہو جائے گا۔ اگر اس جسم کو چھوڑا جائے تو یہ واپس زمین پہ آ گرے گا۔ چنانچہ پوٹینشل انرجی، کسی جسم میں مقام کی تبدیلی کی بنا پر ہوتی ہے۔

4۔ تھرمل انرجی Thermal Energy

اس توانائی کا تعلق حرارت سے ہے۔ یہ توانائی درجہ حرارت کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹھنڈک، اپنی اصلیت میں کچھ نہیں ہے، نیز حرارت کی کمی کو ٹھنڈک کہا جاتا ہے۔ تھرمل انرجی کی اہمیت کے پیشِ نظر اسے تفصیل سے آئندہ کسی قسط میں بیان کیا جائے گا۔

5۔ نیوکلئیر انرجی Nuclear Energy

ایٹمی نیوکلئس کے تعاملات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی توانائی نیوکلئیر انرجی کہلاتی ہے۔ یہ بہت شدید ہوتی ہے۔ ایٹم بم اور ہائڈروجن بم میں یہی توانائی خارج ہوتی ہے۔

6۔ کیمیکل انرجی Chemical Energy 

ایٹموں یا مالیکیولوں کے باہمی ری ایکشنز کے دوران اخذ شدہ توانائی، کیمیکل انرجی کہلاتی ہے۔ بیٹریوں سے حاصل ہونے والی الیکٹروکیمیکل انرجی اس کی بہترین مثال ہے۔

7۔ الیکٹرومیگنیٹک انرجی
Electromagnetic Energy

اسے اردو میں برقی مقناطیسی یا شعاعی توانائی بھی کہا جاتا ہے۔ روشنی اور دیگر برقی مقناطیسی شعاعوں مثلاً الٹراوائلٹ، انفراریڈ، ایکس ریز، مائکرو ویوز وغیرہ میں یہی توانائی پائی جاتی ہے۔ موبائل کے سگنلز بھی اسی توانائی سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ بلیو ٹوتھ اور وائی فائی بھی اسی توانائی کی اشکال ہیں۔ اس توانائی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خلاء میں بھی سفر کرسکتی ہے۔

8۔ سونک انرجی Sonic Energy

آواز کی لہروں کی توانائی سونک انرجی کہلاتی ہے۔ یہ خلاء میں سفر نہیں کرسکتی۔ اسے کسی نہ کسی مادی واسطے مثلاً ہوا یا پانی وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

9۔ الیکٹرک انرجی Electric Energy

چارج کی حرکت الیکٹرک انرجی کہلاتی ہے۔ عام برقی کرنٹ اور آسمانی بجلی اسکی عام مثالیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹توانائی سے متعلق اہم حقائق🔹

⁦▪️⁩ہر قسم کی توانائی میں کہیں نہ کہیں حرکت ضرور وابستہ ہے۔

⁦▪️⁩توانائی ایک غیر سمتی مقدار یعنی اسکیلر ہے

⁦▪️⁩توانائی ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

⁦▪️⁩توانائی عام طور سے فنا نہیں ہوتی۔

⁦▪️⁩ہر قسم کی توانائی کی پیمائشی یونٹ جول ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

سائنس : آخری قسط: جانداروں کی گروہ بندی

_*سائنس (10)*
 *(آخری قسط: جانداروں کی گروہ بندی)*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکی سائنسدان رابرٹ وٹیکر (Robert Whittaker) وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے سن 1969 میں دنیا بھر کے جانداروں کی اٹھارہ لاکھ سے زائد انواع کو پانچ بڑے گروہوں میں تقسیم کر کے اسوقت تک کی تمام کاوشوں کو نیا موڑ دے دیا اور ہر قسم کی سابقہ گروہ بندیوں کو قصۂ پارینہ بنا کے رکھ دیا۔ وہ ایک جینیئس تھا اور جینیئس یوں ہی کیا کرتے ہیں۔

اس طرح بننے والے پانچ گروہوں کو گروپ کی بجائے کنگڈم Kingdom کا خوبصورت نام دیا گیا۔ یوں دنیا میں اب جانداروں کے پانچ بڑے کنگڈمز ہیں۔

1۔ کنگڈم مونیرا یا پروکیریوٹا
Kingdom Monera or Prokaryota

2۔ کنگڈم پروٹسٹا (Kingdom Protista)

3۔ کنگڈم فنجائی (Kingdom Fungi)

4۔ کنگڈم پلانٹی (Kingdom Plantae)

5۔ کنگڈم اینیمیلیائی (Kingdom Animaliae)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ کنگڈم مونیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔸اس کنگڈم میں بیکٹیریا، سائنو بییکٹیریا اور آرکیا (Archaea) شامل ہیں۔

🔸یہ سب پروکیریوٹک سیلز کے حامل ہوتے ہیں۔

🔸اکثریت یک خلوی جانداروں پر مشتمل ہیں۔

🔸تمام جاندار خورد بینی ہیں۔

🔸ان کی سیل وال میورین (Murein) کی بنی ہوتی ہے۔

🔸صرف سائنو بیکٹیریا، فوٹو سنتھیسز کی مدد سے اپنی خوراک خود تیار کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ کنگڈم پروٹسٹا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔸یہ کنگڈم یوکیریوٹک جانداروں پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ اپنے تنوع کے لحاظ سے کسی اور کنگڈم میں جگہ نہیں پا سکتے۔

🔸یہ جاندار یک خلوی اور کثیر خلوی ہوتے ہیں۔

🔸زیادہ تر خوردبینی اور پانی میں پائے جاتے ہیں۔

🔸ان میں سے کچھ یک خلوی جو اپنی خوراک تیار نہیں کر سکتے، حیوانات کی مانند ہوتے ہیں۔ مثلاً امیبا یا پیرامیشیئم وغیرہ۔

🔸نباتات نما جاندار الجی Algae کہلاتے ہیں۔ یہ کلوروفل رکھنے کی بنا پر فوٹو سنتھیسز کر سکتے ہیں۔

🔸ان میں تیسری قسم فنگس نما جانداروں کی ہے، مثلاً سلائم مولڈز۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ کنگڈم فنجائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے روٹی پر لگنے والی پھپھوندی دیکھی ہو گی۔ اس کے علاوہ مشروم کو کھایا بھی ہو گا۔ یہ دونوں فنجائی کی مثالیں ہیں۔

🔸یہ کثیر خلوی، یوکیریوٹک جاندار ہیں۔

🔸ان کے سیلز میں اکثر دو نیوکلیائی (نیوکلیئس کی جمع) ہوتے ہیں۔

🔸یہ بہت سخت جان ہوتے ہیں اور ہر قسم کی اشیاء پر اگ سکتے ہیں۔

🔸ان کی سیل وال کائیٹن Chitin کی بنی ہوتی ہے۔
یہ اپنی خوراک خود تیار نہیں کر سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔ کنگڈم پلانٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام پودے، سبزیاں، پھل، درخت، جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں، بیلیں، کائی وغیرہ اس کنگڈم سے تعلق رکھتے ہیں۔

🔸یہ کثیر خلوی یو کیریوٹک جاندار ہیں، جن میں کلوروفل ہونے کی وجہ سے اپنی خوراک خود تیار کر سکتے ہیں۔

🔸ان کے سیلز میں سیلولوز Cellulose کی بنی ہوئی سیل وال ہوتی ہے۔

🔸یہ پانی، خشکی اور نم دار جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ کنگڈم اینیمیلیائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام حیوانات، پرندے، کیڑے مکوڑے، ممالیہ، ریپٹائلز، مچھلیاں، گھونگھے وغیرہ اس کنگڈم سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسان بھی اسی کنگڈم کی ایک نوع ہے۔

🔸یہ بھی کثیر خلوی، یوکیریوٹک جاندار ہیں مگر ان میں کلوروفل نہ ہونے کی بنا پر فوٹو سنتھیسز نہیں ہوتا۔

🔸ان میں کوئی سیل وال نہیں پائی جاتی۔

🔸یہ پانی اور خشکی دونوں میں پائے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنگڈمز پر گروہ بندی کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ ہر کنگڈم کے اندر بھی گروہ بنائے گئے جنہیں فائلم کہا گیا اور فائلم کے اندر بھی گروہ بندی ہوئی۔ اس طرح سائنسدانوں نے گروہ بندی کے سات لیولز متعارف کروائے۔ یہ درج ذیل ہیں۔

1۔ کنگڈم Kingdom
⁦⁦
2۔ فائلم Phylum

3۔ کلاس Class

4۔ آرڈر Order

5۔ فیملی Family

6۔ جینس Genus

7۔ اسپی شیئز Species
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معزز قارئین، "سائنس آسان" سیریز کا یہاں پر اختتام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ یہی ایک نقطۂ آغاز ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس سفر کا، جو آپ کو لے جاتا ہے سائنس کی دلچسپ، رنگین اور حیرت انگیز جادونگری میں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ ان دس اقساط کا بغور مطالعہ کر لیں اور تمام نکات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں تو پھر آپ سائنس پر لکھے گئے بیشتر مضامین کو بآسانی سمجھ سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قسط 9: زندگی کی اکائی

_*سائنس*
 *(قسط 9: زندگی کی اکائی)*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خون کی ایک بوند میں، جگر کے ایک ٹکڑے میں، آنکھ کے تل میں، نوخیز پتے کی باریک قاش میں، جڑ کی نوک میں، نئی شاخ کے پہلے سرے میں، کسی تتلی کے نازک بدن میں اور ہر جاندار کے پورے جسم میں جو شے آپ کو بکھری ہوئی اور کثرت سے نظر آئے گی وہ خلیہ Cell ہے۔ تمام جاندار سیلز سے بنے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ بھی جو ہمیں آنکھ سے نظر بھی نہیں آتے۔

آپ جان چکے ہیں کہ سیل کسی بھی جاندار کی ساختی اور فعلی اکائی ہے۔ 

کچھ جانداروں مثلاً امیبا، پیرامیشئیم، بیکٹیریا وغیرہ کا پورا جسم صرف ایک سیل پر مشتمل ہوتا ہے اور کچھ جانداروں کے جسم میں کھربوں سیلز پائے جاتے ہیں، جیسا کہ انسان، پودے اور دیگر حیوانات۔

🔹سیلز کی اقسام🔹

ساخت کے لحاظ سے سیلز کی دو بنیادی اقسام ہیں۔

1۔ پروکیریوٹک سیلز (Prokaryotic Cells)
2۔ یوکیریوٹک سیلز (Eukaryotic Cell)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ پروکیریوٹک سیلز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس قسم کے سیلز صرف تین قسم کے جانداروں میں دیکھے گئے ہیں۔ بیکٹیریا، سائنو بیکٹیریا اور آرکیا (Archaea)۔ 

جانوروں، پودوں یا فنجائی اور پروٹوذوا میں اس قسم کے سیلز نہیں پائے جاتے۔

زمین پر زندگی کا آغاز تقریباً 3.6 ارب سال پہلے ہوا اور سب سے پہلے پروکیریوٹک جاندار ہی پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ ارب سال کی طویل مدت تک زمین پر ان کا ہی راج رہا۔ یوں پروکیریوٹک کے بعد پہلے یوکیریوٹک سیلز کا سراغ 2.1 ارب سال پہلے ملتا ہے۔ 

⁦▪️⁩پروکیریوٹک سیلز نسبتاً سادہ اور جسامت میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ سب کے سب خوردبینی ہیں۔ ان کی اوسط جسامت ایک سے دس مائکرون تک ہوتی ہے۔ (ایک مائکرون، میٹر کا دس لاکھواں حصہ ہوتا ہے)

⁦▪️⁩ان سیلز میں نہ تو نیوکلئیس پایا جاتا ہے اور نہ ہی میمبرین رکھنے والے کوئی اور آرگنیلز organelles پائے جاتے ہیں۔

⁦▪️⁩ان کا کل جسم ایک سیل میمبرین، کچھ سائٹوپلازم اور نیوکلئوئڈ (Nucleoid) پر مشتمل ہوتا ہے۔

⁦▪️⁩سیل میمبرین ایک جھلی ہے جو سیل کے اطراف پائی جاتی ہے۔ اس جھلی کے باہر سیل وال اور کیپسول پایا جاتا ہے۔

⁦▪️⁩سیل کی بیرونی سطح پر بال نما پائلائی pili اور فلیجیلا بھی نظر آتے ہیں۔

⁦▪️⁩سائٹوپلازم شفاف جیل کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں صرف ایک قسم کے آرگنیلز پائے جاتے ہیں جو کہ رائبوسومز ہیں اور ان کا کام پروٹین کی تیاری ہے۔

⁦▪️⁩نیوکلیوئڈ صرف ایک کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ چھلے کی طرح گول ہوتا ہے۔ یہ ڈی این اے سے بنا ہے۔

⁦▪️⁩اس کے علاوہ بیکٹیریا میں ایک چھوٹا سا پلازمڈ پایا جاتا ہے۔ یہ بھی ڈی این اے سے بنا ہے مگر یہ تولید کے عمل میں حصہ نہیں لیتا۔ بیکٹیریا جو اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، اس کا ذمہ دار یہی پلازمڈ ہے۔

⁦▪️⁩پروکیریوٹک سیل خود کو تقسیم کر کے دو سیلز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ عمل بائنری فشن کہلاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ یوکیریوٹک سیلز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ نسبتاً بڑے اور پیچیدہ سیلز ہیں۔ ان کی جسامت دس مائکرون سے زیادہ ہوتی ہے۔ تمام پودوں، جانوروں، فنجائی اور پروٹوذوا میں یہی سیلز پائے جاتے ہیں۔

🔹ہر یوکیریوٹک سیل کے تین حصے ہوتے ہیں۔ سیل میمبرین، سائٹوپلازم اور نیوکلیئس۔ پودوں اور فنجائی میں اضافی پرت سیل وال کی ہوتی ہے۔

🔹سیل وال غیر لچکدار پرت ہے جو فنجائی اور پودوں کے سیل میں سب سے بیرونی جانب ہوتی ہے۔ کیمیائی لحاظ سے یہ دونوں میں الگ الگ نوعیت کی ہے۔ یہ سیل کی حفاظت کا کام کرتی ہے۔ اور ہر قسم کے مالیکیولز کو گزرنے کی اجازت دیتی ہے۔

🔹سیل میمبرین فاسفولیپڈ کی دو باریک تہوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ بہت لچکدار مگر نیم نفوذ پذیر ہوتی ہے۔ یعنی اس میں سے ہر قسم کے مالیکیولز نہیں گزر سکتے۔ اس کی نصف کمیت پروٹین پر مشتمل ہوتی ہے۔

🔹سیل کے وسط میں ایک گول جسم نیوکلئیس ہوتا ہے جو خود بھی میمبرین سے ملفوف ہوتا ہے۔ یہ سیل کے تمام افعال کو کنٹرول کرتا ہے اور یہی وہ جسم ہے جس میں کروموسومز پائے جاتے ہیں۔ (کروموسومز پر تفصیلی پوسٹ آئندہ)

🔹سیل میمبرین اور نیوکلئیس کی درمیانی جگہ نیم جیلی نما شفاف سائٹوپلازم سے پر ہوتی ہے۔ سائٹوپلازم میں بےشمار نامیاتی اور غیر نامیاتی اجزاء کے ساتھ ساتھ کچھ زندہ اجسام پائے جاتے ہیں، جنہیں آرگنیلز کہا جاتا ہے۔

اہم آرگنیلز کے نام یہ ہیں۔

⁦▪️⁩مائٹو کونڈریا: یہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔

⁦▪️⁩گالجی باڈیز: یہ مختلف secretions پیدا کرتے ہیں۔

⁦▪️⁩اینڈوپلازمک ریٹی کلم: سیل کی اندرونی ترسیلات اور پروٹین کی تیاری کا کام کرتے ہیں۔

⁦▪️⁩پلاسٹڈز: صرف پودوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی ایک قسم کلوروپلاسٹ سے فوٹو سنتھی سز کا عمل ہوتا ہے۔

⁦▪️⁩سینٹریولز: صرف حیوانی سیل میں پائے جاتے ہیں اور سیل کی تقسیم میں مدد کرتے ہیں۔

⁦▪️⁩لائسوسومز: ان میں مختلف مقاصد کے لئے اینزائمز پائے جاتے ہیں۔

⁦▪️⁩رائبوسومز: یہ پروٹین تیار کرتے ہیں۔

⁦▪️⁩ویکئولز: سیلز کے فالتو مادے ان میں جمع ہوتے ہیں۔

مندرجہ بالا تمام آرگنیلز میں میمبرین پائی جاتی ہے سوائے رائبوسومز، ویکئولز اور سینٹریولز کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Sunday, July 9, 2023

ذرے میں کائنات -سائنس

_*سائنس*_

_*(قسط 6: ذرے میں کائنات)*_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرض کیجئے آپ کسی دوسرے شہر شفٹ ہو رہے ہیں اور مسئلہ گھر کے تمام سامان کو شفٹ کرنے کا ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں کوئی آپ کو پیش کش کرے کہ اس کے پاس ایک ایسی خالی ماچس کی ڈبیا ہے، جس میں آپ گھر کا تمام سامان بلکہ گھر کی پوری بلڈنگ ڈال کر لے جا سکتے ہیں۔ تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟؟؟ کیا آپ اس شخص کو ہوش مند سمجھیں گے؟؟

کائنات کا آغاز اس سے بھی کئی گنا ناقابلِ یقین انداز میں ہوا۔ تیرہ اعشاریہ سات ارب سال پہلے یہ ایٹم سے بھی بہت چھوٹے ذرے جیسے نقطے سے شروع ہوئی اور چشمِ زدن میں وسعتوں کے جہاں میں تبدیل ہو نا شروع ہو گئی۔ اسی نقطے میں تمام ستارے، کہکشائیں، کواسرز، سپر کلسٹرز اور آپ کی یہ زمین، یہ چاند اور سورج کا سب مادہ اور توانائی سمٹے ہوئے تھے۔ 

ابتداء میں جو مادہ بنا اس میں منظم ایٹم یا مالیکیولز نہیں تھے بلکہ وہ پارٹیکلز (ذرات) تھے، جن سے بعد میں ایٹم تشکیل پائے۔ فی الحال ہمارا موضوع یہ ذیلی ایٹمی ذرات (Sub-atomic particles) نہیں ہیں۔ ان پر ہم آئندہ کسی مضمون میں بات کریں گے۔ 

ہمارا آج کا موضوع ایٹم (Atom) ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مادے کی موجودگی نے انسان کو صدیوں سے تجسس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ مادے کی حقیقت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک اور سوال سے جڑا ہے؛ اور وہ یہ کہ مادہ بنا کس شے سے ہے؟

یونانی مفکرین نے مادے کے ترکیبی اجزاء آگ، ہوا، پانی اور مٹی قرار دئے، مگر اصل سوال اب بھی برقرار تھا کہ یہ آگ، ہوا، مٹی اور پانی کس شے سے بنے ہیں۔ 

ایسے میں ہمارے سامنے "ایٹوموس"  (Atomos) کا تصور آتا ہے۔ اس تصور کا بانی ڈیموکریٹس (370 ق م) کو سمجھا جاتا ہے لیکن اس نے اس کا تصور اپنے استاد لیوسی پس سے لیا۔ 

اس نے کہا کہ ہر قسم کا مادہ چھوٹے چھوٹے غیر مرئی، ناقابلِ تقسیم ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں ایٹوموس کہا جا سکتا ہے۔ لفظ ایٹوموس کا مطلب ہی ناقابلِ تقسیم ہے۔ بعد میں یہی لفظ ایٹم بنا۔

اٹھارویں صدی عیسوی کے اختتام تک ایٹم کے بارے میں مختلف افکار اور تصورات پیش کئے جاتے رہے۔ ان افکار کا تعلق سائنس سے زیادہ فلسفے سے تھا۔

مادے کی تین حالتیں یعنی ٹھوس، مائع اور گیس ایٹموں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات یہ ایٹم باہم مل کر مالیکیول بناتے ہیں۔

🔹ڈالٹن کا ایٹمی ماڈل:🔹

سن 1808 میں سر جان ڈالٹن نے باضابطہ طور پر پہلا ایٹمی ماڈل پیش کیا۔ اس ماڈل کے بنیادی نکات یہ ہیں۔

1۔ ہر قسم کا مادہ، چھوٹے چھوٹے ذرات یعنی ایٹموں سے بنا ہے۔ یہ ایٹم ناقابلِ تقسیم اور ناقابلِ فنا ہیں۔ یعنی ایٹموں کو مزید توڑنا ممکن نہیں اور نہ ہی ان کے اندر مزید ذیلی ذرات ہوتے ہیں۔

2۔ ایک عنصر (Element) کے تمام ایٹم اپنی کمیت اور دیگر خواص میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ مثلاً سونا یا چاندی یا کاربن وغیرہ۔

دوسرے لفظوں میں، جس مادے کے تمام ایٹم ایک جیسے اور ایک ہی قسم کے ہوں اسے عنصر کہا جائے گا۔

3۔ ایسے مادے جو دو یا زائد قسم کے ایٹموں کے باہم ملاپ سے تشکیل پائیں، مرکبات (Compounds) کہلاتے ہیں۔ چنانچہ پانی مرکب ہے، کیونکہ اس میں ہائڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کا ملاپ عمل میں آتا ہے۔

4۔ ایک کیمیائی ری ایکشن، دراصل ایٹموں کی از سرِ نو ترتیب (rearrangement) ہے۔

اس ماڈل کے پہلے نکتے کے علاوہ باقی تمام نکات آج بھی درست ہیں۔ بعد کے سائنسدانوں کی زیادہ تر تحقیقات پہلے نکتے کے گرد گھومتی رہیں۔ یہ نقطہ جلد ہی غلط ثابت ہو گیا۔ اور ایٹم کے اندر مزید ذرات الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران دریافت ہوئے۔ علاوہ ازیں ایٹم کو نیوکلئیر ری ایکشنز کی مدد سے تباہ کرنا بھی ممکن ہو گیا۔

🔹الیکٹران کی دریافت🔹

سر جان ڈالٹن کے ماڈل کے فوراً بعد ایٹم کی اندرونی ساخت جاننے کی کوششوں کا آغاز ہو گیا۔ اس سلسلے میں کانچ کی بنی ہوئی ایسی ڈسچارج ٹیوب بنائی گئی جسے ہوا سے خالی کیا گیا اور اس میں سے برقی کرنٹ گزارا گیا۔ 

اس پر پہلا تجربہ سن 1838 میں مائکل فیراڈے نے کیا۔ اس نے چمکدار شعاعوں کا مشاہدہ تو کیا، مگر وہ اس کی وضاحت نہ کر سکا کہ یہ کیسی شعاعیں ہیں۔ 

سن 1857 میں جرمن سائنسدان گیزلر نے ڈسچارج ٹیوب کا ڈیزائن مزید بہتر کیا۔

 1874 میں ولیم کروکس نے ان شعاعوں کو کیتھوڈ ریز کا نام دیا اور ثابت کیا کہ یہ شعاعیں منفی الیکٹروڈ یعنی کیتھوڈ سے خارج ہوتی ہیں۔

جے جے تھامسن وہ سائنسدان تھا جس نے کئی تجربات کرنے کے بعد قرار دیا کہ کیتھوڈ ریز درحقیقت ننھے ننھے ذرات ہیں، جن پر منفی چارج ہوتا ہے اور ان کی اپنی کمیت ہوتی ہے۔ ان ذرات کو الیکٹران کہا گیا۔ یہ اتنے ہلکے ہیں کہ سب سے چھوٹے ایٹم ہائڈروجن سے بھی ان کی کمیت 1840 گنا کم ہوتی ہے۔ ہر ایٹم میں الیکٹران پائے جاتے ہیں۔ گویا ڈالٹن کا یہ مفروضہ کہ ایٹم ناقابلِ تقسیم ہوتا ہے، غلط ثابت ہو گیا۔

🔹تھامسن کا ایٹمی ماڈل🔹

الیکٹران کی دریافت کے بعد، منطقی طور پر ایٹم کے بقیہ حصے کو مثبت چارج کا حامل قرار دیا گیا۔ جے جے تھامسن نے نیا ماڈل پیش کیا، جسے پلم پڈنگ ماڈل (Plum pudding model) کا نام دیا گیا۔ اس کے مطابق:

1۔ ایٹم قابلِ تقسیم ہے۔

2۔ اس کی بیشتر کمیت مثبت چارج والے ذرات پر مشتمل ہے۔

3۔ الیکٹران اس مثبت چارج کے اندر ساکن حالت میں بکھرے ہوتے ہیں، جیسا کہ فروٹ کیک میں کشمش وغیرہ بکھری ہوتی ہے۔

3۔ ایٹم کا مثبت اور منفی چارج مساوی ہوتا ہے۔

🔹ردر فورڈ کا ایٹمی ماڈل🔹

ارنسٹ ردر فورڈ (Earnst Rutherford) جو کہ جے جے تھامسن کا شاگرد تھا، نے تھامسن کے ماڈل کو غلط ثابت کر دیا۔ 

سن 1909 میں اس نے سونے کے باریک ورق پر الفا ذرات کی بمباری کرتے ہوئے ثابت کیا کہ؛ 

1۔ ایٹم کا زیادہ تر حجم اندر سے خالی ہوتا ہے۔

2۔ ایٹم کا تمام مثبت چارج اور بیشتر کمیت اس کے مرکز میں موجود ایک جسم، نیوکلئس (Nucleus) میں مرتکز ہوتی ہے۔ 

(بعد میں ثابت ہوا کہ نیوکلس میں دو ایٹمی ذرات پروٹان اور نیوٹران پائے جاتے ہیں۔ پروٹان پر مثبت چارج اور نیوٹران پر کوئی چارج نہیں ہوتا)

3۔ تمام الیکٹران اس نیوکلئس کے گرد اسی طرح لگاتار گردش کر رہے ہوتے ہیں جیسے سورج کے گرد سیارے۔

🔹ردرفورڈ کے ماڈل کی خامیاں🔹

ردر فورڈ کا ایٹمی ماڈل بہت حد تک درست تھا، مگر یہ دو مظاہر کی وضاحت نہیں کرتا تھا۔

1۔ ایٹم سے اخراجی اور انجذابی طیف (Spectrum) حاصل ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟

( اسپیکٹرم سے مراد روشنی کی وہ دھاری ہے، جس کی مخصوص فریکوئنسی ہوتی ہے، جیسا کہ قوسِ قزح میں ہر رنگ کی دھاری الگ الگ دکھائی دیتی ہے۔)

2۔ الیکٹران گھومتے ہوئے اپنی توانائی خرچ کیوں نہیں کرتا؟ اگر اس کی توانائی خرچ ہو رہی ہے تو اسے نیوکلئس میں گر جانا چاہئے۔

🔹بوہر کا ایٹمی ماڈل🔹

ڈنمارک کے سائنسدان نیل بوہر (Neil Bohr) نے ردر فورڈ کے ماڈل کی ان خامیوں کو دور کر کے 1913 میں اپنا ایٹمی ماڈل پیش کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب کوانٹم تھیوری نے فزکس کے شعبے میں ہلچل مچا رکھی تھی۔ 

اسی تناظر میں پیش کئے گئے بوہر کے ایٹمی ماڈل کے نکات یہ ہیں۔

1۔ اگرچہ الیکٹرانز، نیوکلئس کے گرد گردش کرتے ہیں مگر نیوکلئس سے ان کی گردش کا فاصلہ طے شدہ ہوتا ہے۔ ان طے شدہ راستوں کو آربٹ کہا جاتا ہے۔ الیکٹرانز ان مقررہ آربٹ سے انحراف نہیں کرتے۔

2۔ جب تک ایک الیکٹران کسی ایک آربٹ میں گردش کرتا رہتا ہے، یہ توانائی جذب یا خارج نہیں کرتا۔

3۔ کوئی بھی الیکٹران اسی وقت توانائی جذب یا خارج کرتا ہے جب وہ کسی نچلے آربٹ سے اونچے یا اونچے سے نچلے آربٹ میں چھلانگ لگاتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اسپیکٹرم تشکیل دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مادے کی کیمسٹری

سائنس
قسط 7: مادے کی کیمسٹری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مادہ چاہے ٹھوس ہو، مائع ہو یا گیس، تین قسم کے ذرات سے بنا ہوتا ہے۔ 

⁦▪️⁩ایٹمز (Atoms)
⁦▪️⁩مالیکیولز (Molecules)
⁦▪️⁩ آئینز (ions) 

نیز جو مادہ آپ دیکھتے ہیں، کیمیائی لحاظ سے یہ تین قسم کا ہوتا ہے۔

⁦▪️⁩عنصر یا element
⁦▪️⁩مرکب یا compound
⁦▪️⁩آمیزہ یا mixture

سائنس میں آگے بڑھنے سے پہلے، مندرجہ بالا اصطلاحات کے بارے میں بنیادی معلومات یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔ چاہے آپ بور ہوں یا دلچسپی سے پڑھیں، انہیں یاد رکھنا بہرحال بہت ضروری ہے۔ 
تو آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ایٹم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹ایٹم کی ساخت کے بارے میں گذشتہ قسط میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ ایٹم کسی عنصر کا وہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہے جو اس عنصر کے تمام خواص اپنے اندر رکھتا ہے اور مزید توڑنے سے اس کے یہ تمام خواص ختم ہو جاتے ہیں۔

🔹ہر ایٹم تین بنیادی ذرات سے بنا ہے۔ الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران۔

🔹پروٹان اور نیوٹران بھاری ذرات ہیں اور ان کی کمیت ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ دونوں قسم کے ذرات نیوکلئس میں پائے جاتے ہیں۔

🔹پروٹان پر مثبت چارج ہوتا ہے جبکہ نیوٹران پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔

🔹الیکٹران بہت ہلکا ذرہ ہے اور یہ نیوکلئس کے گرد تیز رفتاری سے گردش کرتا رہتا ہے۔

🔹الیکٹران پر منفی چارج ہوتا ہے مگر اس کی مقدار پروٹان کے مثبت چارج کے برابر ہوتی ہے۔ یعنی جہاں ایک پروٹان اور ایک الیکٹران ہوں وہاں چارج نیوٹرل ہو جائے گا۔

🔹ایک ایٹم میں الیکٹران اور پروٹان کی تعداد ہمیشہ برابر برابر ہوتی ہے۔ جبکہ نیوٹران کی تعداد پروٹان کے برابر یا تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے۔

🔹سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کائنات کے تمام ایٹموں کے الیکٹران، پروٹان یا نیوٹران میں معمولی سا بھی فرق نہیں ہوتا۔ 

مثلاً مرکری کے ایک ایٹم میں 80 پروٹان ہوتے ہیں۔ اگر اس کا ایک پروٹان نکال دیا جائے تو یہ سونا بن جائے گا، کیونکہ سونے کے ایک ایٹم میں 79 پروٹان ہوتے ہیں۔ یا آپ اس کا الٹ بھی کر سکتے ہیں۔ 

اسی طرح سونے سے مزید ایک پروٹان نکال دیں تو یہ پلاٹینم بن جائے گا۔

🔹🔹اب آتے ہیں ایٹم کے سائز کی طرف۔۔۔۔ ایک ایٹم اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ آپ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ اگر کاربن کے ایک ایٹم کی مثال لیں تو اس کا قطر (diameter) 0.154 نینو میٹر ہوتا ہے۔ ایک نینو میٹر، ایک ملی میٹر کا دس لاکھواں حصہ ہے۔ گویا جب آپ اپنی پنسل سے کاغذ پر صرف ایک نقطہ لگاتے ہیں تو اس نقطے میں کاربن کے کروڑوں ایٹم سمائے ہوئے ہوتے ہیں۔

🔹کائنات میں بمشکل 120 اقسام کے ایٹم پائے گئے ہیں۔ چونکہ ایک عنصر میں ایک ہی قسم کے ایٹم ہوتے ہیں، اسلئے عناصر کی تعداد بھی اسی قدر ہے۔ لیکن ان ایٹموں سے بننے والے مالیکیولوں کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ مالیکیولز Molecules
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹دو یا دو سے زائد ایٹموں کے متحد ہونے سے تشکیل پانے والا ذرہ مالیکیول کہلاتا ہے۔ 

مثلاً پانی کا ایک مالیکیول ہائڈروجن کے دو ایٹموں اور آکسیجن کے ایک ایٹم پر مشتمل ہے۔ چنانچہ اس کا فارمولا H2O ہے۔ 

اسی طرح آکسیجن گیس کا ہر مالیکیول آکسیجن کے دو ایٹموں پر مشتمل ہے۔

🔹کسی ایٹم کے مالیکیول بنتے ہی اس کی خصوصیات حیرت انگیز طور پر غائب ہو جاتی ہیں اور بالکل نئی خصوصیات وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً ہائڈروجن ایک گیس ہے جو اڑنے والے غباروں میں بھری ہوتی ہے اور آکسیجن بھی گیس ہے، جس سے ہم سانس لیتے ہیں۔ مگر جب ان گیسوں کے ایٹم 2:1 کے تناسب سے متحد ہوتے ہیں تو پانی جیسی شاندار شے وجود میں آتی ہے جس کے خواص نہ آکسیجن جیسے ہیں اور نہ ہی ہائڈروجن جیسے۔

🔹اس طرح مالیکیولوں سے بنی ہوئی اشیاء مرکبات کہلاتی ہیں

🔹وہ قوت جس سے ایٹم متحد ہو کر مالیکیول بناتے ہیں، کیمیائی بانڈ کہلاتی ہے۔ مالیکیولوں میں عموماً کوویلنٹ بانڈ ہوتا ہے۔

🔹کائنات میں مالیکیولز کی کروڑہا اقسام پائی جاتی ہیں، مگر یہ سب انہی معدودے چند ایٹموں سے بنتی ہیں۔

🔹بعض مالیکیول بہت بڑے ہوتے ہیں جو کئی سو یا کئی ہزار یا کئی لاکھ ایٹموں سے بنتے ہیں جیسا کہ پروٹین یا اسٹارچ کا ایک ہی مالیکیول ہزاروں ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس قسم کے مالیکیولز اکثر و بیشتر پولیمرز کہلاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ آئین Ions
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹ہر ایٹم یا مالیکیول چارج کے لحاظ سے نیوٹرل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس میں سے ایک یا زائد الیکٹران نکل جائیں یا اضافی آ جائیں تو یہ آئین کہلاتا ہے۔

🔹آئینز کی دو اقسام ہیں۔ مثبت آئین یا کیٹائن اور منفی آئین یا اینائن۔

🔹عام کھانے کا نمک سوڈیم کلورائیڈ مرکب ہے مگر اس میں مالیکیولز کی بجائے آئینز پائے جاتے ہیں جو کہ "آئینی بانڈ" کے ذریعے باہم متحد ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔ عناصر Elements
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹ایسا خالص مادہ جس کے تمام ایٹموں میں پروٹانز کی تعداد ایک جیسی ہو، عنصر کہلاتا ہے۔

🔹سونا، چاندی، لوہا، تانبہ، نکل، زنک، سیسہ، کرومیم، پلاٹینم، کوئلہ، گندھک، فاسفورس، سلیکان وغیرہ سب عناصر ہیں۔

🔹پروٹان کی تعداد کے لئے اٹامک نمبر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

🔹تمام عناصر جو کہ 118 کے لگ بھگ ہیں، دھاتوں، غیر دھاتوں، ٹھوس، مائع اور گیس پر مشتمل ہیں۔

🔹جن عناصر کا اٹامک نمبر 83 یا اس سے کم ہوتا ہے غیر تابکار ہیں جبکہ 83 سے زیادہ نمبر والے تمام عناصر تابکار ہیں۔

🔹عناصر کی ترتیب کو پیریاڈک ٹیبل سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ مرکبات Compounds
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹دو یا دو سے زائد عناصر کیمیائی بانڈ کے ذریعے متحد ہو کر مرکبات کی تشکیل کرتے ہیں۔

🔹پانی، چینی، پٹرول، گھی، نمک، میٹھا سوڈا، نوشادر، شیشہ، ریت، چاک، چونا وغیرہ سب مرکبات ہیں۔

🔹مرکبات کی دو اقسام ہیں۔ نامیاتی (organic) اور غیر نامیاتی (inorganic)۔

🔹غیر نامیاتی مرکبات میں کاربن سمیت کوئی سا بھی عنصر ہو سکتا ہے مگر نامیاتی مرکبات میں کاربن کا ہونا لازمی ہے۔

🔹جانداروں کے بیشتر مرکبات مثلاً پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، لیپڈز، امائنو ایسڈز وغیرہ نامیاتی ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6۔ آمیزہ mixture
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔹دو یا زائد خالص اشیاء یعنی عناصر یا مرکبات کے طبعی ملاپ سے بننے والی شے آمیزہ کہلاتی ہے۔

🔹آمیزہ میں نئی خصوصیات پیدا نہیں ہوتیں بلکہ تمام اشیاء اپنی خصوصیات قائم رکھتی ہیں۔ 

مثلاً پانی میں چینی گھول دی جائے تو اس میں پانی کی تمام خصوصیات بھی قائم رہیں گی اور یہ میٹھا بھی ہوجائے گا، جو کہ چینی کی خصوصیت ہے۔

🔹دودھ، شہد، لکڑی، ہوا، شربت، چائے، کولڈ ڈرنکس، پینٹ سب آمیزے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے