Showing posts with label دلچسپ معلومات. Show all posts
Showing posts with label دلچسپ معلومات. Show all posts

Tuesday, August 1, 2023

عجیب ترین چوری کا واقعہ

 عجیب ترین چوری کا واقعہ...

 ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔ 

سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔

اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔

 سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔

 شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔

سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔

 لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔ 

لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے، کثرت علم ، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔

لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔


 سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ؛ شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں، اس لیے اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔ 

 شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔

 جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہوگئے۔


  اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی ۔سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔


 ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔

پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔

پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔ شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔


 آج ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے، ہر چار سال بعد چور بھیس بدل کر ہمارے پاس آتا ہے اور لوٹ کر نکل لیتا ہے ۔

عربی ادب سے ماخوذ قصہ

(منقول)

میٹرک کے بعد کیا کریں؟

 _*🔮 دلچسپ معلومات 🔮*_

_*"میٹرک " کے بعد کیا کریں؟*_


     _*کون کون سے شعبے اور مواقع ھیں۔*_

--+++---+++---+++--

آجکل میٹرک کے امتحانات کے بعد بچے اور حتیٰ کہ والدین بھی مناسب رہنمائی اور علم نا ھونے کے باعث فیصلہ نہیں کر پاتے کہ وہ آگے بچوں کو کس شعبے کی تعلیم دلوائیں۔

 طالب علموں کی اکثریت کیرئیر کے انتخاب میں مدد نہ ہونے کی وجہ سے پریشان نظر آتی ہے۔ طلبہ کے سامنے بہت سارے راستے ہوتے ہیں اور انہیں مناسب سمت میں رہنمائی نہیں ملتی۔

بہت سارے طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو میٹرک کے بعد والے تمام شعبہ جات سے ہی نا واقف ہوتے ہیں۔


گروپ میں پچھلے دنوں سے کافی سوالات بھی اس بارے پوچھے گئے ھیں۔لہٰذا ذیل میں میٹرک کے بعدانٹرمیڈیٹ کی سطح کے مختلف شعبہ جات کامختصرتعارف پیش کیا جا رھا ھے، تاکہ طلبا کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے میں آسانی ہوسکے۔

جو درج ذیل ہیں:


ایف ایس سی   

  ایف اے

آئی سی ایس

آئی کام/ڈی کام

اے لیول

  ڈی اے ای

پیرامیڈیکل کورسز


سائنس گروپ (FSc)


ایف ایس سی میں انگریزی، اردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے مضامین لازمی طورپرپڑھائے جاتے ہیں اورباقی مضامین کا مختلف گروپوں میں ہم خودسے انتخاب کرتے ہیں۔

F.Sc

میں عموماً طلبا کادوبڑے شعبوں کی طرف رجحان پایاجاتاہے اوریہ بنیادی شعبے مندرجہ ذیل ہیں۔

 پری میڈیکل

 پری انجینئرنگ


1۔ پری میڈیکل گروپ

جیسا کہ نام سے ظاہرہے کہ اس گروپ میں جانے والے میڈیکل یا بائیولوجی کے دیگر ذیلی شعبہ جات کی طرف جاتے ہیں۔ایف ایس سی پری میڈیکل گروپ کے لازمی مضامین مندرجہ ذیل ہیں

فزکس – کیمسٹری – بیالوجی

طلبا کو میٹرک میں ان تینوں مضامین کابنیادی تعارف کروا دیا جاتا ہے اور ایف ایس سی پری میڈیکل اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعدان کے پاس ایم بی بی ایس کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔

ایف ایس سی پری میڈیکل کے بعد ایم بی بی ایس کے علاوہ دو اور شعبے بھی ہیں جن کو بیچلر آف ڈینٹل سرجری(BDS) اور ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM) کا نام دیاجاتا ہے۔

بی ڈی ایس کے طالب علم دانتوں کے سپیشلسٹ بنتے ہیں اورڈی وی ایم کے طالب علم جانوروں کے ڈاکٹربنتے ہیں۔ ان شعبہ جات کے علاوہ پری میڈیکل میں انٹرمیڈیٹ کے بعد چار سالہ بی ایس آنرز بھی ہوتا ہے جو بائیولوجی کے بیسیوں ذیلی شعبہ جات میں کیا جاسکتا ہے۔جن میں زوالوجی، باٹنی، بائیو ٹیکنالوجی، ڈیری فارمنگ ایڈ فشریز، الائیڈ ہیلتھ سائنسز، ایگریکلچر، اینوائرنمینٹل سائنسز وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر آف فارمیسی اور ڈاکٹر آف فزیوتھراپی میں بیچلر کی ڈگری5سال پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ادویات سازی اور ان کے استعمال کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔


2۔ پری انجینئرنگ گروپ

پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی کرنے کے بعد طالبعلم کے پاس کیرئیر بنانے کے بے شمار مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔

پری انجینئرنگ کے مضامین مندرجہ ذیل ہیں

 فزکس – کیمسٹری – ریاضی

ایف ایس سی پری انجینئرنگ کے متعدد شعبوں کے راستے آپ پر کھل جاتے ہیں۔ ان میں سول ، مکینیکل، الیکٹریکل، میکاٹرونکس، الیکٹریکل پاور، کیمیکل سافٹ ویئر انجینئرنگ وغیرہ سر فہرست ہیں۔

انجینئرنگ کے علاوہ بھی بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ کمپیوٹر سائنس، کمیسٹری، فزکس، میتھ میٹکس، ڈبل میتھ فزکس اور اس کے بے شمار راستے آپ کے سامنے ہوں گے۔ جبکہ آپ پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے بعد آرٹس کے بھی تمام مضامین میں گریجوایشن کر سکتے ہیں۔


جنرل سائنس گروپ :

ایف ایس سی پری میڈیکل اورپری انجینئرنگ کے علاوہ جنرل سائنس گروپ میں بھی طلبا کی کثیرتعداد داخلہ لیتی ہے۔ ایسے طلبا جو جنرل سائنس گروپ میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے خواہش مند ہوں،وہ لازمی مضامین انگریزی، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان کے علاوہ مختلف اختیاری مضامین کا انتخاب کرتے ہیں،جن میں ریاضی ، شماریات، اکنامکس،جغرافیہ وغیرہ شامل ہیں۔یہ طلبا آگے چل کر مختلف ڈگری کورسزمیں داخلہ لیتے ہیں۔


 آرٹس گروپ(FA):

ایف اے کے طلبا کولازمی مضامین کے علاوہ اسلامیات اختیاری،نفسیات،فزیکل ایجوکیشن، پنجابی، فارسی، عربی، اردو ادب اور سوکس وغیرہ کے مضامین میں کوئی سے تین مضامین کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایف اے کرنے کاکوئی فائدہ نہیں، یہ بات بالکل غلط ہے۔ درحقیقت انسان جس شعبے میں محنت کرے،اس میں اپنی پہچان بناسکتا ہے۔ بڑے بڑے اہم عہدوں پرفائزایف اے، بی اے کرنے والے لوگوں نے پاکستان میں سول سروسز (CSS) اور صوبائی انتظامی شعبہ جات(PMS) کے مقابلہ جاتی امتحانات پاس کرکے یہ عہدے حاصل کیے اورحکومت میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ایف اے کرنے کے بعدبی اے میں داخلہ لینے والے طلبا صحافت ،درس وتدریس اور مختلفانتظامی شعبہ جات سے منسلک ہوتے ہیں۔


کمپیوٹر سائنس گروپ(ICS):

”گلوبل ویلیج” ہونے کے تصورمیں کمپیوٹر کی اہمیت مسلمہ ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم میں ابتدائی سطح پرآئی سی ایس کروایاجارہاہے جوکہ انٹرمیڈیٹ کی سطح کی تعلیم ہے۔ اس میں طلبا وطالبات لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ، ریاضی اور فزکس یا Statistics کے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں۔ آئی سی ایس کرنے والے طلبا اس کے بعد 3سالہ بی سی ایس (BCS)یا چار سالہ بی ایس سی ایس((BSCS، بی ایس آئی ٹی(BSIT) یا سافٹ ویئر انجینئرنگ میں داخلہ لیتے ہیں۔


 کامرس گروپ(I.Com):

کامرس یابزنس آج کے دور کااہم ترین شعبہ ہے۔بزنس کے مختلف اسرار و رموز اورداؤپیچ سکھلانے کے لئے انٹرمیڈیٹ کی سطح سے ہی آئی کام کے کورس کا اہتمام کیا گیاہے۔I.Comکے طلبا مختلف مضامین میں لازمی مضامین انگریزی ، اردو، اسلامیات،مطالعہ پاکستان کے علاوہ اختیاری مضامین ریاضی،اکاؤنٹس،اکنامکس، جغرافیہ اور بینکنگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ I.Comکے طلبا 2سالہ I.Com کے بعد BIT,BBIT,BBA, B.Com وغیرہ کے کورسزمیں داخلہ لیتے ہیں۔


 ڈپلومہ گروپ (D.A.E):

میٹرک کے بعدطلبا کے لیے صحیح کورس کاانتخاب بہت بڑا مسئلہ ہے اورسمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں پڑھا جائے اورکیا پڑھا جائے۔اس مسئلہ کاشکارطلبا کے لیے جوخاص طورپر انجینئرنگ کا رجحان رکھنے والے ہیں، انجینئرنگ میںتعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کاایک راستہ D.A.E بھی ہے۔ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ جو کہ میٹرک کے بعد(صرف سائنس سٹوڈنٹس کے لیے)3 سال پر محیط ہے اوراس کومکمل کرنے کے بعد یہ ڈپلومہ F.Sc کے برابر ہوتاہے۔

پاکستان میں ڈی۔اے ۔ای درج ذیل ٹیکنالوجیز میں کروایا جاتا ہے۔

 مکینیکل انجینئرنگ

 الیکٹریکل انجینئرنگ

 الیکٹرونکس انجینئرنگ

 سول انجینئرنگ

 آٹواینڈ فارم انجینئرنگ

 انفارمیشن ٹیکنالوجی

 شوگرٹیکنالوجی

فوڈٹیکنالوجی

 انسٹرومنٹ ٹیکنالوجی

 پٹرول اینڈ ڈیزل ٹیکنالوجی

 ریفریجریشن اینڈ ائیرکنڈیشنر

 کیمیکل ٹیکنالوجی

علاوہ ازیں اس طرح کی بہت سی ٹیکنالوجیز میں ڈی اے ای کروایا جارہاہے۔

ڈپلومہ کرنے کاایک فائدہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنیکل کورس ہوتا ہے اورسرکاری سیکٹر میں ڈپلومہ کرنے کے بعد 14 سکیل تک نوکری مل جاتیہے۔D.A.E کرنے کے بعداگرمزیدپڑھائی کاارادہ ہو تو آپ اپنے متعلقہ شعبہ میںبی ایس انجینئرنگ اوربی ایس ٹیکنالوجی کرسکتے ہیں۔

D.A.E

اردواورانگلش دونوں زبانوں کے علاوہ گورنمنٹ اورپرائیویٹ دونوں قسم کے اداروں میں کروایا جاتا ہے۔ لیکن گورنمنٹ کالجز سے نکلنے والے ڈپلومہ ہولڈرز پرائیویٹ کی نسبت زیادہ قابل ہوتے ہیں اور ان کی قدربھی انڈسٹری میں زیادہ ہوتی ہے۔

کروانے والے چندبڑے اورمعیاری ادارے درج ذیل ہیں۔ D.A.E

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،ساہیوال

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،لاہورریلوے روڈ

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،لاہوررائے ونڈ روڈ

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،بہاولپور

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،ملتان

گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،فیصل آباد

 ٹیچر ٹریننگ کالج، فیصل آباد

گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول پور،ڈیرہ غازیخان

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،بوریوالہ

 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، کمالیہ

 مکینکل اینڈالیکٹریکل کالج ،راولپنڈی

 G.C.Tرسول کالج ،منڈی بہاؤالدین

 گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ ،سرگودھا

 سویڈش پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ،گجرات

 گورنمنٹ کالج آف ٹےکنالوجی ،سیالکوٹ

خیبر پختونخواہ کے ڈی اے ای کروانے والے اہم ادارہ جات

 AIMCSپشاور

 ASAایبٹ آباد سکول آف آرٹ

 احمد زئی پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ ،بنوں

 الفلاح انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کوہاٹ

ان کے علاوہ درجنوں ادارے خیبرپختونخواہ اور سندھ میں بھی ڈی اے ای کی تعلیم کے لیے موجود ہیں۔

بلوچستان کے ڈی اے ای کروانے والے اہم ادارہ جات۔

 پولی ٹیکنیک کالج کوئٹہ

 بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی


داخلہ کی شرائط

ڈی اے ای کے لیے سائنس کا طالب علم ہونا لازمی ہے اور تمام سرکاری کالجوں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیاجاتاہے ۔

ڈپلومہ بہت سے پرائیویٹ اداروں میں بھی کروائے جاتے ہیں لیکن ان میں سرکاری اداروں کی نسبت مشینری اور پریکٹیکل کے آلات بہت کم ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سرکاری کالجوں کے طلبا کوفیلڈ میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

سرکاری کالجوں کی سالانہ فیسیں بھی کم ہوتی ہیں جبکہ ان کی نسبت پرائیویٹ اداروں کی فیسیں زیادہ ہوتی ہیں۔

ڈپلومہ کروانے والاایک بورڈ ہرصوبے میں موجود ہے۔ جیسے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ،خیبر پختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ،بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن وغیرہ۔اسی طرح تمام صوبوں میں بورڈزیہ کام سرانجام دے رہے ہیں اورتمام پرائیویٹ اداروں کاان سے الحاق ہونا ضروری ہے۔


 پیرامیڈیکل کورسز:

پیرامیڈیکل کورسزسے مراد وہ کورسز ہیں جو ڈاکٹرز کے ساتھ بطورِمعاون کام کرنے والے اور ہسپتال کوچلانے والے افراد تیار کرنے کے لیے کروائے جاتے ہیں۔ ان میں دو طرح کے کورسز ہوتے ہیں۔ ایک تواسسٹنٹ اور دوسرے ٹیکنیشنزہوتے ہیں۔ 


اسسٹنٹ جیساکہ ڈسپنسرز، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی، لیبارٹری اسسٹنٹ وغیرہ ،ان کا سکیل 6 ہوتاہے۔ صوبہ سندھ میں اسسٹنٹ کوسکیل 9اور ٹیکنیشنز کو سکیل 11 دیا جاتاہے۔

یہ کورسز عموماً میٹرک کے بعد جبکہ کچھ ایف ایس سی کے بعدہوتے ہیں۔ پیرامیڈیکل کورسزمیں اہلیت کے لیے میٹرک سائنس (بیالوجی) ہوناضروری ہے اور سائنس مضامین میں سے 50% نمبرز ہوناضروری ہیں۔

ان کورسزکے لیے بہت سے سرکاری ادارے اور ہسپتال موجودہیں۔جبکہ بہت سے پرائیویٹ ادارے بھی رجسٹرڈ ہیں۔ سرکاری اداروں میں داخلہ فیس تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اورٹریننگ بھی اچھی دی جاتی ہے جبکہ پرائیویٹ اداروں میں طلبا کوبھاری فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں جوکہ 30ہزار سے 60ہزار تک ہوتی ہیں۔


ویسے توبہت سے سرکاری ادارے اورہسپتال ہیں جن میں یہ کورسزکروائے جاتے ہیں لیکن پانچ ٹیکنیکل ادارے بالخصوص انہی کورسزکے لیے بنائے گئے ہیں۔ جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔

 پیرامیڈیکل سکول آف فیصل آباد

پیرامیڈیکل سکول آف ساہیوال

 پیرامیڈیکل سکول آف بہاولپور

پیرامیڈیکل سکول آف سیالکوٹ

پیرامیڈیکل سکول آف سرگودھا


ان کے علاوہ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں بھی یہ کورسز کروائے جاتے ہیں۔جن میں لاہورمیوہسپتال، گنگا رام ہسپتال، سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال،سوشل سکیورٹی ہسپتال، شیخ زید ہسپتال، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور پمز ہسپتال اسلام آباد وغیرہ شامل ہیں۔جوکورسز پیرامیڈیکس کے تحت کروائے جاتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔


 ڈسپنسر

آپریشن تھیٹرٹیکنالوجی

 لیب ٹیکنیشن

 ریڈیوگرافر

ڈینٹل ٹیکنیشن

 انستھیزیاٹیکنیشن

 ڈائیلیسز ٹیکنیشن

 انجیوگرافک ٹیکنیشن

 میڈٹیکنیشن

 اسسٹنٹ فارمسٹ


ان کورسزمیں سے چندایک کوچھوڑکر باقی سب کورسز شیخ زیدہسپتال (لاہور) میں کروائے جاتے ہیں جبکہ باقی ہسپتالوں میں ان میں سے کچھ کورسزکروائے جاتے ہیں۔ ڈسپنسر کورس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لاہورمیں بھی کروایا جاتا ہے۔ 

جبکہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بی ایس سی لیبارٹری اور میو ہسپتال میں ڈینٹل ٹیکنالوجسٹ جوبی ایس سی کے برابر ہوتاہے ،بھی کروایا جاتاہے۔ ان اداروں میں سے جو مجموعی طور پر سب سے اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں،وہ پیرامیڈیکل سکول ساہیوال اوردوسرا شیخ زید ہسپتال لاہور ھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تحریر وترتیب!

عتیق الرحمن-


نوٹ: اس تحریر کی تیاری میں tribe Republic ویب سائیٹ پر موجود مواد کی مدد لی گئی ھے۔


مذکورہ انفارمیشن۔۔۔ مفاد عامہ کی خاطر شئیر کی گئی ھے

Wednesday, July 26, 2023

پٹواری نظام اور شیر شاہ سوری

 _*🔮 دلچسپ معلومات 🔮*_


_*📜پٹواری نظام شیر شاہ سوری سے کمپیوٹرائزیشن تک👽*_


_*برصغیر میں*_ سرکاری سطح پر زمینوں کے انتظام وانصرام کی تاریخ شیر شاہ سوری سے لے کر اکبراعظم اور برطانوی راج سے لے کر پنجاب میں موجودہ کمپیوٹرائزیشن تک پھیلی ہوئی ہے۔


انگریز نے سنہ 1860 میں اس مںصوبے پر کام شروع کیا اور سنہ 1900 میں پہلا بندوبست اراضی ہوا۔ سنہ 1940 کے بندوبست میں اس نظام کو صحیح معنوں میں جامع اور موثر طریقے سے نافذ کیا گیا۔


آج بھی ہمارے ملک میں بنیادی طورپر اصل ریکارڈ سنہ 1939-40 ہی کا چل رہا ہے۔


پنجاب میں ریوینیو کی موجودہ کمپیوٹرائزیشن پر بات کرنے سے پہلے لینڈ ریکارڈ کے اس نظام کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ یہ نظام دراصل کن بنیادوں پر اور کیوں تیار کیا گیا تھا۔ جب برطانوی حکومت نے محکمہ مال کا آغاز کیا تو 40 کتابیں تیار کی گئیں۔


سب سے پہلے 'شرط واجب العرض' نامی کتاب وجود میں آئی، جو شاید سب سے اہم دستاویز بھی کہلائی جا سکتی ہے۔ اس دستاویز میں ہر گاؤں کو 'ریونیو سٹیٹ' قرار دے کر اس کی مکمل تفصیل درج کی گئی جس میں گاؤں کے نام کی وجہ، اس کے پہلے آباد کرنے والوں کے نام، قومیت، عادات و خصائل، ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل، رسم و رواج، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گاؤں کے لوگوں کے معاملات طے کرنے جیسے قوانین کا تذکرہ، زمینداروں، زراعت پیشہ، غیر زراعت پیشہ دستکاروں، حتیٰ کہ پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض، انھیں فصلوں کی کٹائی کے وقت دی جانے والی شرح اجناس کی ادائیگی (جس کے بدلے میں وہ اپنے اپنے ہنر سے گاؤں بھرکے لیے خدمات بجا لاتے تھے)۔ اس کے علاوہ نمبردار اور چوکیدارکے فرائض اور ذمہ داریاں تک طے ہوئیں۔

گویا ہر گاؤں کے جملہ معاملات کے لیے 'شرط واجب العرض' وجود میں لائی گئی جو آج بھی ریونیو ریکارڈ کا حصہ ہے۔

'روزنامچہ ہدایاتی' میں پٹواری اعلیٰ افسران کی طرف سے دی جانے والی ہدایات درج کرتا ہے۔ 'روزنامچہ واقعاتی' میں پٹواری ہر روز عیسوی، دیسی اور اسلامی تاریخ درج کرتا ہے۔


اس کے نیچے وہ اپنی دن بھر کی کارگزاری لکھتا ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ وہ گرداور اور اعلیٰ افسران کی طرف سے روزنامچہ واقعاتی پر ان کے دستخط کرواتا ہے۔


ایک دستاویز 'روزنامچہ کارگزاری' بھی پٹواری تحریر کرتا ہے۔ وہ سارادن جو کام کرتا ہے اس کی ایک نقل تحصیل آفس میں دفتر قانون گو میں جمع کراتا ہے اور 'روزنامچہ پڑتال' پر اعلیٰ افسران اپنے ریمارکس لکھتے ہیں۔


برطانوی راج کے دوران جب محکمہ مال کا آغاز ہوا تو حیرت انگیز طریقے سے زمین کے چپے چپے کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگاؤں، کرنال سے شروع ہونے والی بغیر مشینری اورجدید آلات کے زمین کی پیمائش ضلع اٹک، دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں آنے والے ندی، نالے، دریا، سڑکیں، راستے، جنگل، پہاڑ، کھائیاں اورآبادیوں وغیرہ کا بھی اندراج ہوا۔


ہر گاؤں، شہر کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے جس بھی شکل میں موجود تھے ان کو نمبرات خسرہ، کیلہ وغیرہ الاٹ کیے گئے۔


ہر نمبر کے گرد چاروں طرف پیمائش'کرم' (ساڑھے پانچ فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لیے ہر گاؤں میں 'فیلڈ بک' تیار کی گئی۔


جب حد موضع (ریونیو سٹیٹ) قائم ہو گئی تو اس میں نمبرات خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر کی چہار اطراف سے جو کرم کے حساب سے زمین برآمد ہوئی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا کے تحت وضع کر کے اندراج ہوا۔ فیلڈ بک میں ملکیتی نمبرات خسرہ کے علاوہ سڑکوں، عام راستوں، بن، روہڑ، وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کی گئی۔


اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام افسران بالا نے کیا۔ اس کا نقشہ آج بھی متعلقہ تحصیل اور ضلع کے محافظ خانوں میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری گاؤں کا نقشہ (لَٹھا) تیار کرتا ہے۔ جب نیا بندوبست ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔

اس پیمائش کے بعد ہر 'ریونیو سٹیٹ' کے مالکان قرار پانے والوں کے نام بقدر حصہ درج کیے گئے۔ ان لوگوں کا شجرہِ نسب تیار کیا گیا اورجس حد تک پشت مالکان کے نام معلوم ہو سکے، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا۔


یہ دستاویز آج بھی اتنی موثر ہے کہ آپ لاکھ اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کریں مگر ایک ذرا تحصیل یا ضلعی محفظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے یہ ریکارڈ آپ کے دادا کے پردادا کی بھی قوم اور کسب نکال کر دکھا دے گا۔


جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے ان کے وارثان کے نام شجرہ کا حصہ بنتے گئے۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثت کے مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں۔


پٹواری کی لال کتاب

شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت ایک اہم ترین کتاب میں مرتب کیا جاتا تھا جسے پہلے 'جمع بندی' کہتے ہیں اور اب اس کا نام 'رجسٹرحقداران زمیں' رکھا گیا ہے۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام، نمبر کھیوٹ، کتھونی، خسرہ ، کیلہ، مربع، اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوتا ہے۔


ہر چار سال بعد پٹواری اس دوران منظور ہونے والے انتقالات میعہ، رہن، ہبہ، تبادلہ، وراثت وغیرہ کا عمل اور زمین کی تبدیلی حیثیت کا اندراج، نیز گذشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت و حصہ وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹرحقداران زمین تیار کرتا ہے اور اس کی ایک نقل محافظ خانہ میں جمع کراتا ہے۔ رجسٹر حقداران زمین کی تیاری کا انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ رائج ہے۔


اس کی تیاری میں جہاں پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے، وہاں گرداور اور تحصیلدار سو فیصد جانچ پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان افسران کا گاؤں میں جاکر مالکان کی موجودگی میں ان اندراجات کو پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست تیارکرنا ضروری ہے۔


آخر میں تحصیلدار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ یہ دستاویز اب غلطیوں سے پاک ہے۔

رجسٹرحقداران زمین کے ساتھ 'رجسٹر گردواری' بھی پٹواری تیار کرتا ہے۔


 مارچ میں وہ فصل ربیعہ اور ستمبر میں فصل خریف کے مطابق ہر نمبر خسرہ، کیلہ پر جا کر مالکان اور کاشتکاران کی موجودگی میں فصل اور مالک کا نام درج کرتا ہے۔ 


ہر فصل کے اختتام پر پٹواری اس کتاب کے آخر میں درج کرتا ہے کہ کون سی فصل کتنے ایکڑ سے اور کتنی برآمد ہوئی۔


اس کی نقل تحصیل کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کو بھی ارسال کی جاتی ہے جس سے صوبے اور ملک کی آئندہ پیداوار کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ یہ محکمہ مال کی ایک اہم دستاویز ہے جس کی جانچ پڑتال گرداور سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک موقع پر جا کر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔


'رجسٹرانتقالات' میں پٹواری جائیداد منتقلہ کا اندراج کرتا ہے اور گرداور تصدیقی نوٹ لکھتا ہے۔

کاغذات مال متذکرہ کی کئی اور کتابیں بھی ہوتی ہیں، جن سے ریکارڈ آپس میں مطابقت کھاتا ہے اور غلطی کا شائبہ نہیں رہتا۔ 


پٹواری کے پاس ایک 'لال کتاب ' بھی ہوتی ہے جس میں گاؤں کے جملہ کوائف درج ہوتے ہیں، جیسے اس گاؤں یا شہر کا کُل رقبہ، مزروعہ کاشتہ، غیر مزروعہ بنجر، فصلات کاشتہ، مردم شماری کا اندراج، مال شماری، جس میں ہر قسم کے مویشی اور ان کی تعداد، نر، مادہ، مرغیاں، گدھے، گھوڑے، بیل، گائیں، بچھڑے وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے۔


_*اس نظام کو فرسودہ کیوں کہا جاتا ہے؟*_


ماہرین کے مطابق جس طرح یہ محکمہ بنایا گیا تھا اورذمہ داریاں مقرر کی گئیں تھیں اگر ان پر عمل ہوتا رہتا تو زمینوں کے لیے اس سے بہتر نظام کوئی نہیں تھا۔ انگریز دور تک تو یہ نظام ٹھیک چلتا رہا مگر آزادی کے بعد ہم 'آزاد' ہو گئے، ریکارڈ میں جعل سازیاں اور ہیرا پھیریاں فروغ پانے لگیں حتیٰ کہ بدنام زمانہ 'پٹوار کلچر ' وجود میں آیا۔


پٹواری سفارش پر بھرتی ہونے لگے اور افسران اہم پوسٹوں کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنانے لگے۔ پٹواریوں، گرداوروں، تحصیلداروں، اسسٹنٹ کمشنروں، اور ڈپٹی کمشنروں کو کام میں دلچسپی اور سمجھ بوجھ نہ رہی۔


اوپر سے حکمران بھی ایسے آتے گئے جنھیں عوامی مسائل سے کوئی غرض نہ تھی۔ ریونیو عملہ فیلڈ میں جانے کی بجائے دفتر ہی میں بیٹھا رہتا۔


افسران نے پٹواری کو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بنا لیا جو رشوت سے اپنے خرچوں کے علاوہ افسران کے کچن اور اللے تللے چلانے لگے۔ 


سیاستدانوں نے بھی پٹواریوں سے اپنی جلسہ گاہیں بھرنے اور انتخابات میں کامیابی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اور اس طرح اس نظام سے اعتبار اٹھنے لگ گیا۔


سنہ 2008 میں ورلڈ بنک کے تعاون سے پنجاب میں محکمہ مال کو کمپیٹرائزڈ کرنے کا کام شروع کیا گیا۔


یوں تو ایک لمبا کام تھا لیکن اسے عجلت سے کرنے کی کوشش کی گئی۔ آزادی کے بعد ریکارڈ میں کافی غلطیاں آچکی تھیں۔ پہلے تو پنجاب حکومت نے طے کیا کہ کمپیوٹرائزیشن سے پہلے ہر تحصیل میں محکمہ کے چار ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں یہ غلطیاں ٹھیک کریں گی مگرریکارڈ کا ستیاناس ہو چکا تھا اور اکثر غلطیوں کی درستی کے لیے سنہ 1940 کے ریکارڈ سے لے کر موجودہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی ضرورت تھی۔


پھر صوبائی حکومت نے عجلت میں حکم دیا کہ جوں کا توں غلط ریکارڈ، لینڈ ریکارڈ میں جمع کرا دیا جائے۔ اب تک پنجاب کے 26000 موضعات کمپیوٹرائزڈ ہو چکے ہیں اور 3000 بقایا ہیں۔ 


ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے قبل ضروری تھا کہ اراضی کا بندوبست کرایا جاتا، جو ہر چالیس برس بعد ہوتا ہے اورآخری بندوبست انگریز حکومت نے سنہ 1940 میں کرایا تھا۔


اگلا بندوبست سنہ 1980 میں ہونا تھا جو ابھی تک نہیں ہوا۔


اکثر انتقالات کا عمل پٹواریوں نے یا لینڈ ریکارڈ سنٹر نے نہیں کیا اور رقبہ بدستور بیچنے والے کے نام پر ہے۔ لینڈ ریکارڈ والے ناخواندہ عوام کو حکم دیتے ہیں کہ پٹواری، تحصیلدار سے بذریعہ فرد بدر ریکارڈ درست کرا کے لائیں، حالانکہ تمام ریکارڈ بمعہ نادرا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے اور وہ با آسانی نام یا رقبہ درست کر سکتے ہیں۔


اب موجودہ حکومت اس تجویز پر غور کررہی ہے کہ ہر تحصیل میں ایک ایک قانون گوئی (چھ سات گاؤں) واپس پٹواریوں اور تحصیلداروں کو دے دیے جائیں اور وہ پرانے نظام کی طرح کام کریں۔


اگر اس طرح لوگوں کی مشکلات حل ہو گئیں تو شاید پرانا نظام واپس آ جائے مگر وہ انگریز والا نہیں 'پٹواری کلچر' والا ہی ہو گا


_


_*═════════════𖣔*_

_*•┈┈•┈┈•⊰✿🌹✿⊱•┈┈•┈┈•*_


_*🔮 دلچسپ معلومات 🔮*_



*═════════════𖣔*

دلچسپ معلومات: ایک لاجواب اور اِنتہائ پر اثر تحریر


میرا یہ یقین ہے کہ اگر ایک دفعہ اس تحریرکو آخر تک پڑھ لیں تو آپکی زندگی میں چھوٹا   سااِنقلاب ضرور آئیگا ۔ 



ایک نوجوان نے درویش سے دعا کرنے کو کہا ...... درویش نے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے جذب سے دُعا دی:

"اللّہ تجھےآسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے"




دعا لینے والے نے حیرت سے کہا:

حضرت! الحمد للّہ ہم مال پاک کرنے کے لیے ھر سال وقت پر زکاۃ نکالتے ہیں، بلاؤں کو ٹالنے کے لیے حسبِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں.... اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں، ہمارے کام والی کا ایک بچہ ہے، جس کی تعلیم کا خرچہ ہم نے اٹھا رکھا ہے، اللّہ  کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے ہیں ۔۔۔




درویش تھوڑا سا مسکرایا اور بڑے دھیمے اور میٹھے لہجے میں بولا:


"میرے بچے!  پیسے، کھانا .یہ سب تو رزق کی مختلف قسمیں ہیں۔۔اور

یاد رکھو "رَازِق اور الرَّزَّاق" صرف اور صرف الله تعالٰی کی ذات ہے۔۔۔تم یا کوئی اور انسان یا کوئی اور مخلوق نہیں ۔۔ تم جو کر رہے ہو، اگر یہ سب کرنا چھوڑ بھی دو تو اللّہ تعالٰی کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کر سکتی ہے ، اگر تم یہ کر رہے ہو تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہو."




درویش نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھ میں لیا اور پھر بولا:

میرے بچے! آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹناکسے کہتے ہیں.



 

🌹کبھی کسی اداس اور مایوس انسان کے کندھے پے ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹا اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا..... آسانی ہے!




🌹اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ ودو کرنا .... آسانی ہے!




🌹   صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا۔۔۔یہ آسانی ہے!




🌹 اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا... یہ بھی آسانی ہے!




🌹غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا .... یہ بھی آسانی ہے!




🌹چاۓ کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بُلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بُلانا..... یہ بھی آسانی ہے!




🌹  گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا.یہ آسانی ہے!




🌹تمہارا اپنے دفتر، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا، دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا، کچھ دیر رک کر ان سے ان کے بچوں کا حال پوچھنا..... یہ بھی آسانی ہے!

ہسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنا اور اسے تسّلی دینا ..... یہ بھی آسانی ہے!




🌹ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہو گئی ہو ...... سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے!"




درویش نے حیرت میں ڈوبے نوجوان کو شفقت سے سر پر ھاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جارے رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا:

"بیٹا جی! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے۔۔۔۔.!!!؟؟؟




🌹آج واپس جا کر باھر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ دے کر دروازہ کُھلنے تک انتظار کرنا.




🌹   آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو.

آج سے ماں کے پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً ان کے پاس پہنچ جایا کرنا.... اب انھیں تمہیں دوسری آواز دینے کی نوبت نہ آئے.

آیندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا.




🌹 سالن اچھا نہ لگے تو دسترخوان پر حرف شکایت بلند نہ کرنا .کبھی کپڑے ٹھیک استری نہ ہوں تو خود استری درست کرلینا۔۔۔.

 



میرے بیٹے! ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں ، تم زندگی کے محتاج ہو ، منزل کی فکر چھوڑو، اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بناؤ ، ان شاء اللّہ تعالٰی منزل خود ہی مل جائے گی۔۔۔۔۔!!!!!!



*حاصل کلام*


*آئیں! صدقِ دِل سے دُعا کریں کہ اللّہ تعالٰی ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین ثم آمین یا رب العالمین.*